لفظ سلام سے قبل تحویل الوجہ کا حکم:
Question
سلام پھیرتے وقت تحویل الوجہ کس وقت کرنا چاہیے لفظ سلام کی ابتداء میں یا لفظ سلام سے پہلے؟ جب کہ معمول یہ ہے کہ سلام کہتے وقت چہرہ پھیرتے ہیں لیکن بعض حضرات فرماتے ہیں کہ پہلے مکمل چہرہ پھیر لے اس کے بعد لفظ سلام ک ہے دونوں میں سے کو ن سا قول زیادہ صحیح ہے؟
Answer
فقہاء کی عبارات کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اولاً چہرہ کو مکمل پھیر دے پھر اس کے بعد لفظ سلام ک ہے ۔ ملاحظہ ہو الحقائق شرح منظومۃ النسفی میں ہے:
ويحول أولاً ثم يسلم. (الحقائق شرح منظومة النسفي، ص ۲٦۳، لابي حامد محمود بن محمد بن داود البخاري).
طوالع الانوار میں ہے:
ثم يسلم عن يمينه ويساره، محولاً رأسه قبل السلام، كما في الحقائق. (طوالع الانوار شرح الدر المختار: ۱/۷۱۰).
خزانۃ العلماء میں ہے:
ثم يحول المصلي وجهه أولاً كما في الحقائق. (خزانة العلماء للشيخ محمد رضاء بن الشيخ محمد صالح: ۱/۱۰۷).
مجموعۃ الغرائب میں ہے:
ينبغي للمسلم أن يحول وجهه أولاً ثم يسلم، كذا في صلاة النخشي. (مجموعة الغرائب، ص ۷۷).
جامع الرموز شرح النقایہ میں ہے:
ثم يحول المصلي وجهه أولاً كما في الحقائق حتى يري بياض خده كما في المبسوط ثم يسلم. (جامع الرموز للقهستاني: ۱/۱٦۱).
مجمع المسائل میں ہے:
وتحويل الوجه ثم يسلم، قهستاني شرح مختصر الوقاية. (مجمع المسائل، ص ٤۷).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.