سورۂ فاتحہ کے بعد صرف ﴿فإذا فرغت فانصب الخ﴾ پڑھنا:
Question
ایک شخص نے نماز میں سورۂ فاتحہ کے بعد اتنا ہی پڑھا
﴿فإذا فرغت فانصب وإلى ربك فارغب﴾
تو کیا نماز ہوئی یا نہیں ہوئی؟
Answer
سورہ فاتحہ کے بعد کم از کم قراءت جس سے واجب ادا ہو جائے، تین چھوٹی آیتیں ہیں یا ایک بڑی آیت، اگر تین آیات سے کم پڑھا تو کم از کم تیس حروف ہونا چاہیے، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں صرف دو آیتیں پڑھیں جن کے حروف کا مجموعہ ۲٦ ہوتا ہے لہذا واجب مقدار ادا نہیں ہوئی، نماز واجب الاعادہ ہے ۔
ملاحظہ ہو امداد الفتاح میں ہے:
ويجب ضم سورة قصيرة أو ثلاث آيات قصار لقوله ﷺ "لا صلاة لمن لم يقرأ بالحمد وسورة في فريضة أو غيرها". (أخرجه الترمذي في أبواب الصلاة، باب ما جاء في تحريم الصلاة وتحليلها: ۳/۳/۲۳۸). (إمداد الفتاح مع الحاشية: ص ۲۷٥، فصل في واجبات الصلاة. وكذا في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ص ۲٤۸، فصل في بيان واجبات الصلاة، وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۷۱، الفصل الثاني في واجبات الصلاة)
در مختار میں ہے:
وضم أقصر سورة كالكوثر أو ما قام مقامها وهو ثلاث آيات قصار نحو: ﴿ثم نظر ثم عبس وبسر ثم أدبر واستكبر﴾ وكذا لو كانت الآية أو الآيتان تعدل ثلاثاً قصاراً ذكره الحلبي. وفي الشامي: (قوله تعدل ثلاثاً قصاراً) أي مثل ثم نظر
وهي ثلاثون حرفاً فلو قرأ آية طويلة قدر ثلاثين حرفاً يكون قد أتي بقدر ثلاث آيات
(الدر المختار مع الشامي: ۱/٤٥۸)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
ایک سورت ملائے یا تین چھوٹی آیت ملائے کہ مجموعہ تین آیات میں کم از کم تیس حروف ہوں جیسے
﴿ثم نظر ثم عبس وبسر ثم أدبر واستكبر﴾
یا ایک بڑی آیت ملائے اگر اتنی مقدار پڑھی کہ تیس حروف ہو جائے تب بھی کفایت ہو جائے گی ۔ (فتاوی محمودیہ: ۷/۳۰، باب القراءت، جامعہ فاروقیہ)
نیز ملاحظہ ہو: فتاوی رحیمیہ ٤/۳۱۰ ۔ و فتاوی حقانیہ ۳/۱۷۲، باب القراءت) ۔ واللہ
گ
اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.