آمین اگر پاس والا سن لے تو جہر میں شامل نہیں:
Question
اگر کسی نے آمین اس طرح کہی کے پاس والے نے سن لی تو یہ جہر میں شامل ہے یا نہیں؟
Answer
آمین اگر پاس والا سن لے تو جہر میں شامل نہیں سر ہی کے حکم میں ہے اس سے نماز صحیح ہے ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
وأدني المخافتة إسماع نفسه ومن بقربه؛ فلو سمع رجل أو رجلان فليس بجهر والجهر أن يسمع الكل
وفي الشامي: ولذا قال في الخلاصة والخانية عن الجامع الصغير: أن الإمام إذا قرأ في صلاة المخافتة بحيث سمع رجل أو رجلان لا يكون جهراً، والجهر أن يسمع الكل أي كل الصف الأول لا كل المصلين، بدليل ما في القهستاني عن المسعودية أن جهر الإمام إسماع الصف الأول. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/٥۳٤، فصل في القراءة، سعيد)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر ایک دو آدمی کو سنائی دے تو نماز میں کوئی خرابی نہیں ہے بلکہ سر ہی ہے امام کی آواز کو پہلی صف عموماً سن لے تو یہ جہر ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۷/۳۹، الفصل الثانی فی کیفیۃ الجہر و السر) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.