مسئلۂ فاتحہ خلف الامام میں شوافع حضرات کے لیے لمحۂ فکریہ:

4 min readFatwa Vol 2 #141Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۵): قراءت و تجوید اور قاری کی لغزشوں کا بیان

Question

اکثر شوافع کو دیکھا گیا ہے کہ جہری نمازوں میں امام کے فاتحہ کے بعد یا ان کے ساتھ ساتھ فاتحہ پڑھتے ہیں، کیا شوافع حضرات کو جہری نمازوں میں امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنی چاہیے یا نہیں؟

Answer

اس مسئلہ کی اچھی تحقیق استاذ محترم حضرت مولانا سرفراز خان صاحب نے
"أحسن الكلام في ترك القراءة خلف الإمام"
میں فرمائی ہے، ہم اس تحریر کی روشنی میں مختصراً ترمیم و اضافہ کے ساتھ شوافع حضرات کی خدمت میں یہ تحقیق پیش کرتے ہیں:
امام شافعی رحمه الله نے کتاب الام کی کتاب الصلاۃ میں امام اور منفرد کے لیے سورۂ فاتحہ کے ضروری ہونے کو بیان فرمایا ہے:

حيث قال: فواجب على من صلى منفرداً أو إماماً أن يقرأ بأم القران في كل ركعة لا يجزيه غيرها وأحب أن يقرأ معها شيئاً آية أو أكثر وسأذكر المأموم، إن شاء الله تعالى. (كتاب الأم: ۱/۲۱۰، باب القراءة بعد التعوذ)
وقال في موضع آخر: والعمد في ترك القراءة بأم القران والخطأ سواء في أن لا تجزئ ركعة إلا بها أو بشيء معها إلا ما يذكر من المأموم، إن شاء الله تعالى. (كتاب الأم: ۱/۲۰۳، باب من لا يحسن القراءة، دار الكتب العلمية)

مذکورہ بالا عبارات میں حضرت امام شافعی رحمه الله نے مقتدی کے حکم کے بارے میں جو وعدہ فرمایا ہے وہ وعدہ امام شافعی رحمه الله نے کتاب الحدود کے بعد محل غیر مظان میں پورا فرمایا ہے:

حيث قال: ونحن نقول كل صلاة صليت خلف الإمام والإمام يقرأ قراءة لا يسمع فيها قرأ فيها. (كتاب الأم: ۷/۲٥٦، اختلاف على ابن مسعود رضي الله عنه، دار الكتب العلمية، بيروت لبنان)

چونکہ یہ وعدہ امام شافعی رحمه الله نے غیر مظان میں پورا فرمایا ہے اس لیے بہت سے اکابر نے تحریر فرمایا کہ ان کو کتاب الام میں اس وعدہ کی تکمیل نہیں ملی، چنانچہ حضرت شیخ زکریا رحمه الله تحریر فرماتے ہیں:

ثم لم أجد ذكر المأموم فيما تتبعت. (أوجز المسالك: ۲/۱٦۸)

نیز شیخ بنوری رحمه الله فرماتے ہیں:

والنسخة المطبوعة لم نجد فيها حكم المأموم. (معارف السنن: ۳/۱۸٦، سعيد).

اشکال: امام مزنی رحمه الله نے
"مختصر المزني"
میں امام شافعی سے جہری نمازوں میں قرات فاتحہ کا وجوب نقل فرمایا ہے اور اسی کو قولِ جدید قرار دیا ہے:

قال المزني رحمه الله: قد روي أصحابنا على الشافعي أنه قال: يقرأ من خلفه وإن جهر بأم القران. (مختصر المزني: ۲٦، باب صفة الصلاة وما يجوز منها، دار الكتب العلمية)

الجواب: اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ کتاب الام ربیع بن سلیمان رحمه الله کی روایت سے ہے اور امام مزنی رحمه الله کے مقابلہ میں وہ زیادہ قابل اعتماد اور ثقہ ہیں، چنانچہ امام خلیلی رحمه الله فرماتے ہیں:

ثقة متفق عليه والمزني مع جلالته استعان على ما فاته عن الشافعي بكتاب الربيع وقال مسلمة: كان من كبار أصحاب الشافعي. (تهذيب التهذيب: ۳/۲۲۱، بيروت)

امام ابو الحسن رحمه الله فرماتے ہیں:

البويطي كان يقول: الربيع أثبت في الشافعي مني. (تهذيب التهذيب ۳/۲۲۱، بيروت)

مولی احمد بن مصطفی المعروف بطاش کبری زادہ لکھتے ہیں:

الربيع بن سليمان الثقة الثبت فيما يرويه حتى رجحوا روايته عند تعارض المزني مع علو قدر المزني علماً وديناً وجلالة. (أحسن الكلام: ۸۲ بحواله مفتاح السعادة: ۲/۱٦۲)

خلاصہ یہ ہوا کہ امام بویطی اور محدثین کے فیصلے کی رو سے امام ربیع بن سلیمان رحمه الله کی روایت کو تاریخی اور صریح حوالوں کے پیشِ نظر ترجیح حاصل ہے، لہذا شافعی مقتدی کو جہری نمازوں میں امام کے ساتھ یا بعد میں فاتحہ نہیں پڑھنا چاہیے اور یہی مسلک باقی ائمہ ثلاثہ کا بھی ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.