جماعت اعادہ میں نئے آنے والے کی اقتداء کا حکم:
Question
ایک شخص کی نماز ترکِ واجب کی وجہ سے فاسد ہو گئی کیوں کہ سجدۂ سہو نہیں کیا تھا اب اعادہ کر رہا ہے تو تین نئے آدمی جنہوں نے نماز نہیں پڑھی اس کی اقتدا کر سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer
اس مسئلہ میں فقہاء کے دونوں قول مروی ہیں کہ پہلی نماز سے فرض ادا ہوا یا دوسری سے لہذا آسانی کے خاطر نئے آدمی کی اقتدا صحیح ہے لیکن احتیاط اس میں ہے کہ اقتدا نہ کرے ۔
امداد الفتاح میں ہے:
وإن كان تركه للشيء من الواجبات عمداً أثم ولا يسجد للسهو لأنه شرع تخفيفاً لمن سها وهذا المعتمد وجب عليه إعادة الصلاة تغليظاً عليه لجبر نقصانها إذ لا يتمكن من جبره إلا بإعادتها فتكون مكملة وسقط الفرض بالأولى وقيل: تكون الثانية فرضاً فهي المسقطة. (إمداد الفتاح: ٥11، باب سجود السهو، دار إحياء التراث)
شامی میں ہے:
قوله المختار أنه أي الفعل الثاني جابر للأول بمنزلة الجبر بسجود السهو وبالأول يخرج عن العهدة وإن كان على وجه الكراهة على الأصح، كذا في شرح الأكمل على أصول البزدوي، ومقابله ما نقلوه عن أبي اليسر من أن الفرض هو الثاني، واختار ابن الهمام رحمه الله الأول قال: لأن الفرض لا يتكرر، وجعله الثاني يقتضي عدم سقوطه بالأول
لأن كون الفرض هو الثاني دون الأول يلزم منه عدم سقوطه بالأول وليس كذلك، لأن عدم سقوطه بالأول إنما يكون بترك فرض لا بترك واجب وحيث استكمل الأول
(شامي: 1/2٥7، واجبات الصلاة. وأيضا: شامي ۲/٦۳ـ 6٥، باب قضاء الفوائت، سعيد)
امداد الفتاوی میں ہے:
في رد المحتار باب الجنائز فإذا أعادها (الولي) وقعت فرضاً مكملاً للفرض الأول من نظير إعادة الصلاة المؤداة بكراهة فإن كلاً منهما فرضا كما حققناه في محله،
اس سے ثابت ہوا کہ نو وارد کا فرض شریک ہونے سے ادا ہوگا.
(إمداد الفتاوى: ۱/۳٦٤، باب السهو في الصلاة)
احسن الفتاوی میں ہے:
صلاۃِ معادہ میں شریک ہونے والے کی نماز کی صحت کا قول ارجح و اوسع ہے اور قولِ عدمِ صحت احوط، کثرت جماعت کی حالت میں نو وارد مقتدیوں کے لیے علم حاصل کرنا متعسر ہے کہ یہ جماعت اولیٰ ہے یا معادہ لہذا ایسی صورت میں قول عدمِ صحت میں تنگی اور حرج ظاہر ہے البتہ کسی مقتدی کو اس کا علم ہو جائے تو اس کے لیے عمل بالاحوط اولیٰ ہے ۔ (احسن الفتاوی:
۳/۳٥۲
، باب الامامۃ و الجماعۃ) ۔
کفایت المفتی میں ہے:
اس نماز میں دوسرے لوگ جو پہلی جماعت میں شریک نہیں تھے شریک نہیں ہو سکتے، اگر شریک ہوں گے تو ان کے فرض ادا نہ ہوں گے ۔ (کفایت المفتی:
۳/۱۳۸
، امامت و جماعت، دار الاشاعت)
حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمه الله کا قول احتیاط پر مبنی ہے جیسا کہ پہلے مذکور ہوا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.