عقیدۂ تناسخ کا فساد:
Question
کیا یہ بات صحیح ہے کہ موت کے بعد ارواح ایک جسم سے دوسرے جسم کی طرف منتقل ہوتی ہیں اس طور پر کہ ایک شخص مرگیا تو اس کی روح دوسرے پیدا ہونے والے نئے جسم میں منتقل ہوتی ہے، پوری زندگی اس کے ساتھ رہتی ہے پھر موت کے بعد دوسرے کے جسم میں، اس طرح قیامت تک منتقل ہوتی رہتی ہے؟
Answer
علماء نے فرمایا یہ مجوس، ہنود اور گمراہ رافضیوں کا عقیدہ ہے کہ اہل خیر کی روح نکل کر دوسرے اہل خیر میں داخل ہوتی ہے اور راحت پاتی ہے اور اہل شر کی اہل شر میں داخل ہو کر مشقت برداشت کرتی ہے، اور رافضیوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت علی رضي اللہ عنہ میں حلول فرمایا پھر ان کے بعد ان کے شیعہ أئمہ میں روح منتقل ہوتی رہی ۔ (مقالات الاسلامیین: ۱/ ۱۳۷) ۔
اس کو "تناسخ" کہتے ہیں اور یہ عقیدہ عقلاً و نقلاً فاسد و باطل ہے ۔
النبراس علی شرح عقائد میں ہے:
التناسخ هو انتقال الروح من جسم إلى جسم آخر وقد اتفق الفلاسفة وأهل السنة على بطلانه وقال بحقيقته قوم من الضلال فزعم بعضهم أن كل روح ينتقل في مئة ألف وأربعة وثمانين من الأبدان، وجوز بعضهم تعلقه بأبدان البهائم، بل الأشجار والأحجار على حسب جزاء الأعمال السيئة وقد حكم أهل الحق بكفر القائلين بالتناسخ والمحققون على أن التكفير لإنكارهم البعث. (النبراس، ص: ۲۱۳).
عمدۃ القاری میں ہے:
وقال ابن بزيزة: استدل بظاهره قوم لا يعقلون على جواز التناسخ، قلت: هذا مذهب مردود، وقد بنوه على دعاوى باطلة بغير دليل وبرهان. (عمدة القاري: ٤/ ۳۱۳، وهكذا قال ابن حجر في فتح الباري: ۲/ ۱۸٤).
تحفۃ الاحوذی میں ہے:
وفي حديث ابن مسعود رضي الله عنه عند مسلم: أرواحهم في أجواف طير خضر لها قناديل معلقة بالعرش إلى قوله: قال في المرقاة: وقد تعلق بهذا الحديث وأمثاله بعض القائلين بالتناسخ وانتقال الأرواح، وتنعيمها في الصور الحسان المرفهة، وتعذيبها في الصور القبيحة، وزعموا أن هذا هو الثواب والعقاب، وهذا باطل مردود لا يطابق ما جاءت به الشرائع من إثبات الحشر والنشر والجنة والنار، ولهذا قال في حديث آخر حتى يرجعه الله إلى جسده يوم بعثه الأجساد وفي بعض حواشي شرح العقائد: اعلم أن التناسخ عند أهله هو رد الأرواح إلى الأبدان في هذا العالم لا في الآخرة إذ هم ينكرون الآخرة والجنة والنار، ولذا كفروا انتهى.
قلت: على بطلان التناسخ دلائل كثيرة واضحة في الكتاب والسنة منها قوله تعالى: ﴿حتى إذا جاء أحدهم الموت قال: رب ارجعون لعلي أعمل صالحاً فيما تركت كلا إنها كلمة هو قائلها ومن ورائهم برزخ إلى يوم يبعثون﴾. (تحفة الأحوذي: ۵/ ۲۷۰).
المحلي
میں ہے:
وأما من زعم أن الأرواح تنقل إلى أجساد آخر فهو أصحاب التناسخ، وهو كفر عند جميع أهل الإسلام. (المحلي: ۱/ ٤۵).
کتاب الروح میں ہے:
وإنما التناسخ الباطل ما تقوله أعداء الرسل من الملاحدة وغيرهم الذين ينكرون المعاد أن الأرواح تصير بعد مفارقة الأبدان إلى أجناس الحيوان والحشرات والطيور التي تناسبها وتشاكلها، فإذا فارقت هذه الأبدان انتقلت إلى أبدان تلك الحيوانات، فتنعم فيها أو تعذب، ثم تفارقها، وتحل في أبدان آخر تناسب أعمالها وأخلاقها وهكذا أبداً، فهذا معادها عندهم وتنعيمها وعذابها، لا معاد لها عند هم غير ذلك، فهذا هو التناسخ الباطل المخالف لما اتفقت عليه الرسل والأنبياء من أولهم إلى آخرهم، وهو كفر بالله واليوم الآخر وهذه الطائفة يقولون: إن مستقر الأرواح بعد المفارقة أبدان الحيوانات التي تناسبها، وهو أبطل القول وأخبثه. (كتاب الروح لابن قيم الجوزية: ص، ۱٤۲).
حضرت مولانا شمس الحق افغانی علوم القرآن میں فرماتے ہیں:
(۱) تناسخ انصاف کے خلاف ہے کیونکہ تناسخی مجازات کا تعلق صرف روح سے ہے بدن اس میں شریک نہیں حالانکہ جرم میں روح کے ساتھ مجرم کا بدن بھی شریک رہا ہے ۔
(۲) تناسخی مجازات میں جرم کا علم نہیں، جرم کی سزا کے لیے تحقیق جرم اور مجرم کے لیے اپنے جرم اور اس کی سزا کا علم ضروری ہے جیسے دنیا کی عدالتوں میں مروج ہے لیکن کسی حیوانی روح کو یہ پتہ نہیں کہ اس نے سابق کون سا جرم کیا ہے اور اس کو کس جرم کی سزا میں حیوان کی قالب میں ڈالا گیا ہے لہذا تناسخ نامعقول ہے ۔
(۳) تعداد موت و ولادت کا تفاوت تردید تناسخ کے لیے کا فی ہے، اگر حیوانات کی پیدائش انسانی روحوں کو بسبب جرائم کے حیوانی قالبوں میں ڈالنے کا نتیجہ ہے تو چاہیے کہ جتنے مجرم اور گناہ گار انسان مر جائیں بعینہٖ اتنی تعداد میں حیوانات کی پیدائش ہو جبکہ ایسا نہیں ہے، اگر کسی دن ایک لا کھ انسان مرتے ہیں جن میں نصف یا کچھ زیادہ مجرم ہو تے ہیں تو اسی تعداد کے مطابق کیڑے مکوڑے اور دیگر حیوانات پیدا نہیں ہو تے بلکہ کروڑوں حیوانات ایک دن میں پیدا ہو جاتے ہیں ۔
(٤) اگر تناسخ مان لیا جائے تو انسان اور حیوانات کی روحوں کی وحدت کا قائل ہونا پڑے گا کہ در حقیقت حیوانات کی روحیں بھی انسانی روحیں ہیں جو مجرم کے سبب سے حیوانات کے قالب میں آئی ہیں لیکن دونوں روحوں کا مختلف ہونا ظاہر ہے کہ انسانی روحیں عاقل و ناطق ہیں لیکن حیوانی روحیں ایسی نہیں ۔ دوم یہ کہ اگر بلی میں مثلاً انسانی روح ہے تو انسانی قالب میں اس کو چوہا کھانے سے نفرت تھی تو پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ بلی کے قالب میں وہی چوہا کھانے سے نفرت کرنے والی روح یک دم اپنی فطری نفرت چھوڑ کر چو ہے کے پیچھے دوڑنے پر آمادہ ہو گئی یہ فوری انقلاب نامعقول ہے ۔ (علوم القرآن از حضرت مولانا شمس الحق افغانی ص ۲۱۰ تا ۲۱۳) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (مذاہبِ عالم کا انسائیکلوپیڈیا، و مکالمہ بین المذاہب، ص۱۵۳، بعنوان "تناسخ"، مکتبہ فاروقیہ) ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.