رومال یا لاٹھی رکھ کر گزرنے کا حکم:
Question
نماز ی کے سامنے سے گذرنے کے لیے اپنا رومال لٹکا کر یا لاٹھی کھڑی کر کے گذر سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
بظاہرجواز معلوم ہوتا ہے نیز اس کی دوسری شکل یہ بھی ہے کہ لاٹھی کھڑی کر کے گذر جائے اور گرنے سے پہلے اس کو پکڑ لے ۔ ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
فإن كان معه شيء يضعه بين يديه ثم يمر ويأخذ ه
أقول: وإذا كان معه عصا لا تقف على الأرض بنفسها فأمسكها بيده ومر من خلفها هل يكفي ذلك؟ لم أره. (شامي: ۱/٦۳٦، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، سعيد).
حضرت علامہ انور شاہ صاحب فرماتے ہیں:
وفي حاشية العناية للشيخ سعد الدين أنه لو أسبل غشاوة من السقف كفاه للسترة. قلت: وعلى هذا فمن كان لا بد أن يمر بين يدي المصلي فليسبل منديله أمامه ثم ليمر، ولعله يكون أيسر له من مروره كما هو. (فيض الباري: ۲/۸۳).
عمدۃ الفقہ میں ہے:
اگر گذرنے والے کے ساتھ ایسا عصا (لاٹھی) ہے جس کو کھڑا کرنا ممکن نہیں ہے تو اس کو نماز ی کے آگے کھڑا کر کے اپنے ہاتھ سے تھام کر نماز ی کے آگے سے گزرنا جائز ہے یا نہیں؟
اس کی وضاحت نہیں ملی (شامی) بظاہر جواز معلوم ہوتا ہے، اور اس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اس کو ہاتھ سے چھوڑ کر اس کے گرنے سے پہلے گذر جائے اور پھر اس کو پکڑ لے ۔ (عمدۃ الفقہ حصہ دوم کتاب الصلوۃ: ۲۷٦، سترہ کے مسائل، مجددیہ) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
سوال: ایک شخص نماز ی کے سامنے سے گذرنے کے لیے اپنا رومال لٹکا کریا اپنی چھڑی کھڑی کر کے اس کے پیچھے سے گذر جا تا ہے، کیا یہ جائز ہے؟
جواب: علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں کہ ان کو اس با رہ میں کوئی صریح جزئیہ نہیں ملا، بظاہر اس کے جواز سے کوئی مانع نہیں لہذا بوقتِ ضرورت اس کی گنجائش ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۳/٤۱۰ باب مفسدات الصلاۃ) ۔
انعام الباری میں ہے:
اگر ہاتھ میں رومال ہے رومال لٹکا کر گزر جائے یہ بھی جائز ہے ۔ (انعام الباری: ۳/۲٦۱، بحوالہ فیض الباری: ۲/۸۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.