محفل میلاد منعقد کر نے کا حکم:
Question
آپ ﷺ کے یوم ولادت پر محفلِ میلاد منعقد کر نا جائز ہے یا نہیں جس کو عرف میں میلاد النبی کہتے ہیں، اگر جائز ہے تو اس کی کیا صورت ہے، اور علمائے دیوبند کا اس مسئلہ میں کیا عمل ہے؟
Answer
آنحضرت ﷺ کا ذکر مبارک ایسی بابرکت چیز ہے کہ اس کو ہر وقت مسلمانوں کے رگ و ریشہ میں سرایت کر جانا چاہیے تھا اور کوئی وقت آپ ﷺ کے تذکرہ سے خالی نہ ہو نا چاہیے تھا، صرف ولادت شریفہ اور معراج شریف کے ذکر پر اکتفاء نہیں بلکہ آپ ﷺ کی ہر بات یہاں تک کہ آپ ﷺ کی نشست و برخاست، طعام و لباس اخلاق و عبادات مجاہدات و ریاضات، افعال و احکام اور اوامر و نواہی سب کا ہی تذکرہ کرنا مسلمان کے لیے باعثِ اجر و ثواب ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ سنت کے مطابق ہو ۔
ملاحظہ ہو فتاویٰ رحیمیہ میں ہے:
حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ (
۱۱٤۳
۔
۱۲۲۵
ھ) فرماتے ہیں:
إن القول لا يقبل ما لم يعمل به وكلاهما لا يقبلان بدون النية والقول والعمل والنية لا تقبل ما لم توافق السنة. (ارشاد الطالبين، ص: ۲۸).
یعنی قول بلا عمل درست نہیں ہو تا اور یہ دونوں (قول و عمل) بلا صحیح نیت کے مقبول نہ ہو گے اور قول و عمل اور نیت مقبول ہو نے کے لیے ضروری ہے کہ سنت کے موافق ہو ں ۔
اور آیتِ کریمہ:
﴿ليبلوكم ايكم احسن عملا﴾
کی تفسیر میں ہے:
ذكروا في تفسير أحسن عملاً وجوهاً أحدها أن يكون أخلص الأعمال وأصوبها لأن العمل إذا كان خالصاً غير صواب لم يقبل وكذلك إذا كان صواباً غير خالصٍ والخالص أن يكون لوجه الله والصواب أن يكون على السنة. (التفسير الكبير: ۸/۲٤۳).
یعنی
"أحسن عملاً"
سے مراد عمل مقبول ہے اور عمل مقبول وہ ہے جو خالص ہو ۔ اور صواب ہو، اگر عمل خالص ہے مگر صواب نہیں ہے تو وہ مقبول نہیں، اور جو عمل صواب ہو مگر خالص نہ ہو وہ بھی مقبول نہیں، عمل خالص وہ ہے جو محض اللہ تعالی کی خوشنودی کے کیے کیا جائے اور صواب وہ ہے جو سنت کے مطابق ہو ۔
الاعتصام میں ہے:
من عمل عملاً بلا اتباع سنة فباطل عمله
، جو بھی عمل اتباع سنت کے بغیر کیا جائے گا وہ باطل ہے ۔ (
الاعتصام ۱/۹۵، المكتبة التجارية).
حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا يستقيم قول وعمل ونية إلا بموافقة السنة.
کوئی قول اور عمل اور نیت درست نہیں جب تک کہ رسول اللہ
ﷺ
کی سنت کے موافق نہ ہو ۔ (تلبیس ابلیس ص:
۹
) ۔
حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کا ارشاد ہے:
لا يقبل قول بلا عمل ولا عمل بلا إخلاص وإصابة السنة. (
فتح ربانی:
۱
/
۱٤
) ۔ کوئی قول عمل کے بغیر قابل قبول نہیں اور کوئی عمل اس وقت تک قبول نہیں جب تک اس میں اخلاص نہ ہو اور وہ سنت کے موافق نہ ہو ۔ (فتاوی رحیمیہ:
۱
/
٤۹۲
۔
٤۹۳
، مکتبۃ الاحسان، دیوبند) ۔
لیکن افسوس صد افسوس! آج کل محبت کے دعوے کرنے والوں نے حضور ﷺ کے ذکر کا ایک نیا طریقہ اختیار کیا ہے کہ ربیع الاول کی بارہویں تاریخ کو یومِ میلاد مناتے ہیں اور اس کا نام میلاد النبی ﷺ رکھا ہے، جب کہ اس مجلس کا آغاز چھٹی صدی کے آخر میں ہوا، ابتدائے اسلام سے چھ سو برس تک اس محفل کا پتہ نہیں تھا اور عمر بن محمد نے شہر مو صل میں سب سے پہلے اس کو ایجاد کیا ۔ اس میں بہت سارے منکرات شامل ہو گئے ہیں ۔
ملاحظہ ہو فتاوی رحیمیہ میں ہے:
آج کل رسمی مجالس میلاد میں لوگ جمع ہو کر جاہل شعراء کے قصائد اور مصنوعی اور من گھڑت روایات کو برعایتِ نغمہ و ترنم پڑھتے ہیں، اس میں بے نمازی و فاسق بھی ہو تے ہیں اور اس مذکورہ طریقہ کو ضروری سمجھتے ہیں یہ خلافِ سنت اور بدعت ہے، نہ صحابہ کرام نہ تابعین اور تبع تابعین اور نہ ائمہ کرام میں سے کسی سے ثابت ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ:
۱
/
٤۹۳
، مکتبۃ الاحسان، دیوبند) ۔
مزید براں ان کا عقیدہ ہے کہ مجلس میلاد میں حضور ﷺ تشریف لا تے ہیں، یہ خیال اور عقیدہ اصول شریعت کے لحاظ سے درست نہیں، ہر جگہ حاضر و ناظر ہو نا اللہ تعالی کی صفاتِ خاصہ میں سے ہے ۔
ملاحظہ ہو مدخل میں ہے:
ألا ترى أنهم لما خالفوا السنة المطهرة وفعلوا المولود لم يقتصروا على فعله، بل زادوا عليه ما تقدم ذكره من الأباطيل المتعددة. (المدخل: ۱/۱۵۷ بحواله فتاوى رحيميه: ۱/٤۹٤).
علمائے دیوبند نے اس مروجہ طریقہ جس میں خرافات وغیرہ ہو تے ہیں اس کے باطل و بدعت ہو نے کی تصریح فرمائی ہے ۔
ملاحظہ ہو: (امداد المفتین ۲/۱۷۳، ط: دار الاشاعت ۔، و امداد الاحکام: ۱/۱۸۷، و احسن الفتاوی: ۱/۳۸۳، و فتاوی رحیمیہ: ۱/٤۹۲، و خیر الفتاوی: ۱/۵۸۷، و کفایت المفتی: ۱/۱٤۷، دار الاشاعت، و راہِ سنت ص ۱٦۰ ۔ ۱٦۷، محفلِ میلاد، مکتبہ صفدریہ) ۔
راہِ سنت میں مذکور ہے:
پوری چھ صدیاں گزر چکی تھیں کہ اس بدعت کا کہیں مسلمانوں میں رواج نہ تھا، یہ نہ تو کسی صحابی کو سوجھی نہ تابعی کونہ کسی محدث کو اور نہ کسی فقیہ کونہ کسی بزرگ کو اور نہ کسی ولی کو، یہ بدعت اگر سوجھی تو ایک مسرف بادشاہ کو اور اس کے رفیق دنیا پرست مولوی کو، یہ بدعت ٦۰٤ ھ میں موصل شہر میں مظفر الدین کوکری بن اربل (م
٦۳۰
ھ) کے حکم سے ایجاد ہوئی جو ایک مسرف اور دین سے بے پر واہ بادشاہ تھا ۔ (راہِ سنت، ص
۱٦۲
، محفلِ میلاد کی تاریخ، مکتبہ صفدریہ) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ جشنِ میلاد کے نام پر جو خرافات رائج کر دی گئی ہیں اور جن میں ہر سال مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے یہ اسلام کی دعوت اور اس کی روح اور اس کے مزاج کے بکسر منافی ہے، لہذا تمام رسومات و منکرات کا ترک کرنا لا زم ہے اللہ تعالی ہم تمام کو بدعات و خرافات سے بچائیں اور رسول اللہ ﷺ
کی صحیح عظمت و محبت اور اطاعت نصیب فرمائیں ۔ آمین! ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.