محفلِ میلاد اور اس میں قیام کرنے کا حکم:

6 min readFatwa Vol 1 #71Urdu
Vol. 1كتاب الإيمان والعقائدباب ٧: رد بدعت کا بیان

Question

محفل میلاد اور اس میں قیام، میت کا چالیسواں شب جمعہ کی خیرات یہ مسکوت عنہ ہیں تو ان کو بدعت کیوں کہا جاتا ہے؟

Answer

محفل میلا د وغیرہ فی نفسہٖ مباح ہیں لیکن جب ان کو واجب یا سنت سمجھا جائے یا اپنی طرف سے ان کے اوقات کی تعیین کی جائے، اور وقتِ معین میں زیادہ ثواب سمجھا جائے، اور نہ کرنے والوں پر نکیر کی جائے، وغیرہ تو ان کو بدعت قرار دیا جائے گا ۔
علامہ شامی رحمہ اللہ نے بدعت کی تعریف درجِ ذیل الفاظ میں نقل فرمائی ہے:

ما أحدث على خلاف الحق المتلقي عن رسول الله ﷺ من علم أو عمل أو حال بنوع شبهة واستحسان وجعله ديناً قويماً وصراطاً مستقيماً. (حاشية ابن عابدين: ۱/۵٦۰، ط: سعيد، والبحر الرائق: ۱/۳٤۹، كوئته).

مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
بدعت کہتے ہیں ایسا کام کرنا جس کی اصل کتاب و سنت اور قرونِ مشہود لہا بالخیر میں نہ ہو اور اس کو دین اور ثواب کا کام سمجھ کر کیا جائے ۔ (راہِ سنت ص: ۷۹، بحوالہ حمائل شریف، ص ۷۰۲) ۔
مفتی کفایت اللہ رحمہ اللہ (م ۱۳۷۲ ھ) لکھتے ہیں:
بدعت ان چیزوں کو کہتے ہیں جن کی اصل شریعت سے ثابت نہ ہو یعنی قرآن مجید اور احادیث شریف میں اس کا ثبوت نہ ملے اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام اور تابعین اور تبعِ تابعین کے زمانہ میں اس کا وجود نہ ہو، اور اسے دین کا کام سمجھ کر کیا یا چھوڑا جائے ۔ (راہِ سنت ص ۷۹ بحوالہ تعلیم الاسلام، حصۂ چہارم، ص ۲۷) ۔
الدر المختار میں ہے:

وكل مباح يؤدي إليه (أي إلى اعتقاد السنية أو الوجوب) فمكروه. وفي رد المحتار: (قوله فمكروه) الظاهر أنها تحريمية لأنه يدخل في الدين ما ليس منه. (رد المحتار: ۲/۱۲۰، سعيد).

عبادات کے اندر اپنی طرف سے اوقات اور کیفیات کا تعین کرنا بدعت ہے ۔
مسلم شریف میں ہے:

"لا تخصوا ليلة الجمعة بقيام من بين الليالي ولا تختصوا يوم الجمعة بصيام من بين الأيام إلا أن يكون في صوم يصوم أحدكم. (رواه مسلم: ۱/۳٦۱، قديمي).

الاعتصام میں ہے:

ومنها: التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة. (الاعتصام: ۱/۲۹، دار الكتب العلمية، بيروت).

البحر الرائق میں ہے:

ولأن ذكر الله تعالى إذا قصد به التخصيص بوقت دون وقت أو بشيء دون شيء لم يكن مشروعاً حيث لم يرد الشرع به لأنه خلاف المشروع. (البحر الرائق: ۲/۱۵۹، ط: الماجدية).

حضرت مولانا سرفراز خان صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
یہ ضروری نہیں کہ کوئی چیز اصل ہی میں بُری ہو تو وہ بدعت ہوگی بلکہ وہ اہم طاعات اور عبادات بھی جن کو شریعت نے مطلق چھوڑا ہے ان میں اپنی طرف سے قیود لگا دینا یا ان کی کیفیت بدل دینا، یا اپنی طرف سے اوقات کے ساتھ متعین کر دینا، یہ بھی شریعت کی اصطلاح میں بدعت ہوگی، اور شریعتِ اسلامی اس کو پسند نہیں کرے گی ۔ (راہِ سنت، ص
۱۱۸
، بابِ چہارم) ۔
ہمارے اکابرین رحمہ اللہ نے اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ محفلِ میلاد وغیرہ فی نفسہٖ مباح ہے، البتہ خرابی ان بدعات و خرافات کی وجہ سے ہے جو ان میں پائی جاتی ہیں ۔
امداد الفتاوی میں ہے:

والاحتفال بذكرى الولادة الشريفة إن كان خالياً من البدعات المروجة فهو جائز، بل مندوب كسائر أذكاره ﷺ. (
امداد الفتاوی:
٦
/
۳۱۲
، ط: کراچی) ۔
حضرت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب فرماتے ہیں:
کسی بزرگ کے لیے جو بنفس نفیس آئے، بعض حالات میں بشرطیکہ افراط اور تفریط نہ ہو، قیام درست ہے اور اس پر امام نووی رحمہ اللہ وغیرہ نے
"قوموا إلى سيدكم"
کی حدیث سے استدلال کیا ہے، (شرح مسلم: ۲/۹۵)
مگر دیکھنا یہ ہے کہ حضراتِ صحابۂ کرام کا عمل اس موقع پر کیا تھا، اور جناب نبی کریم ﷺ اس موقع پر کس عمل کو پسند اور کس کو مکروہ سمجھتے تھے، حضرت انس رضي اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

لم يكن شخص أحب إليه من رسول الله ﷺ وكانوا إذا رأوه لم يقوموا لما يعلمون من كراهيته لذلك. (رواه الترمذي: ۲/۱۰۰، وقال: هذا حديث حسن صحيح، ومشكوة: ۲/٤۰۳، ومسند احمد: ۳/۱۵۱، والأدب المفرد، ص ۱۳۸).

حضراتِ صحابۂ کرام کے نزدیک آنحضرت ﷺ کی ذاتِ گرامی سے بڑھ کر اور کوئی محبوب نہ تھا لیکن جب وہ آپ کو دیکھتے تھے تو قیام نہ کرتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ اس قیام کے عمل کو مکروہ سمجھتے تھے ۔
اس صحیح حدیث سے یہ ثابت ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ و سلم اپنے لیے قیام کو پسند نہ کرتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ حضراتِ صحابہ کرام باوجودیکہ ان کو آپ سے انتہائی محبت تھی، قیام نہ کرتے تھے، عجیب بات ہے کہ جس چیز کو آنحضرت ﷺ بھی پسند نہ کرتے ہوں اور کمالِ محبت کے باوجود حضراتِ صحابہ کرام بھی اس پر عمل نہ کرتے ہوں تو پھر آج جب کہ آپ کا کسی مجلس میلاد میں آنا کسی شرعی دلیل سے ثابت ہی نہیں اور نہ کسی کو نظر آتے ہیں تو پھر قیام کو جائز اور مستحب قرار دیا جاتا ہے، بلکہ واجب اور فرض کہا جاتا ہے اور قیام نہ کرنے والے کی تکفیر کی جاتی ہے ۔ (راہِ سنت، ص ۱٦۸، میلاد میں قیام کرنا ، مکتبہ صفدریہ) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (راہِ سنت، از ص۱۱۸تا ص۱۷۰) ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.