مستحبات پر اصرار کا حکم، اور "خير العمل ما ديم عليه" کا مطلب:
Question
"
خير العمل ما ديم عليه"
اس حدیث کا تقاضا یہ ہے کہ اچھے کاموں پر دوام کرنا چاہیے، جبکہ مستحبات پر اصرار کرنے کو علماء بدعت کہتے ہیں، مثلاً نماز کے بعد دائیں جانب سے پھر کر چلنے کو بدعت کہتے ہیں، دونوں میں کیا تطبیق ہے؟
Answer
شریعتِ مطہرہ نے محض کسی امر مستحب پر مداومت کرنے کو بدعت قرار نہیں دیا ہے، بلکہ کسی امرِ مستحب یا مباح کے بارے میں وجوب کا اعتقاد رکھنا یا اس کو اپنے درجہ سے بڑھا دینا یہ بدعت ہے ۔ ہاں کسی مستحب عمل کو مستحب سمجھ کر کرنا اور مداومت کے ساتھ کرنا یہ شریعت کی نگاہ میں پسندیدہ عمل ہے اور حدیثِ پاک کا بھی یہی منشا ہے ۔ (جب کہ ضروری نہ سمجھا جائے اور نہ کرنے والے پر نکیر نہ کی جائے) ۔
ملاحظہ ہو علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قلت: الكوفيون مذهبهم كراهة قراءة شيء من القرآن مؤقتة لشيء من الصلوات أن يقرأ سورة السجدة وهل أتى في الفجر كل جمعة. وقال الطحاوي رحمه الله: إذا رأه حتماً واجباً لا يجزئ غيره، أو رأي القراءة بغيرها مكروهة، أما لو قرأها في تلك الصلاة تبركاً أو تأسياً بالنبي ﷺ، أو لأجل التيسير فلا كراهة. وفي المحيط: بشرط أن يقرأ غير ذلك أحياناً لئلا يظن الجاهل أنه لا يجوز غيره. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري: ۵/۳۷، كتاب الجمعة، ط: ملتان).
عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ نماز میں کسی سورت کو متعین کر لینا مکروہ ہے، اس اعتبار سے بروزِ جمعہ نماز فجر میں سورۂ سجدہ اور سورۂ دہر مداومت کے ساتھ پڑھنا مکروہ ہوگا، لیکن امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا کراہت اس وقت ہوگی جب کہ اس کو لازم اور ضروری سمجھے ورنہ برکۃً اور اقتداء ً بالنبی ﷺ پڑھے تو کراہت نہیں، تاہم نماز با جماعت میں عام لوگ ہوتے ہیں اور جہلاء کے اس کو لازم سمجھنے کا اندیشہ ہے اس وجہ سے احیاناً ترک کر دینا چاہیے، ہاں انفرادی عمل ہو جس میں کسی کے اعتقاد کے خراب ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو مداومت مطلوب اور مستحسن ہے اور اس میں برکت اور اجر زیادہ ہے ۔
حضرت نبی پاک ﷺ نے عبد اللہ بن عمر رضي اللہ عنہ
کے بارے میں فرمایا:
وعن سالم بن عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله عنه عن أبيه: أن رسول الله ﷺ قال: "نِعْمَ الرجل عبد الله لو كان يصلي من الليل، قال سالم: فكان عبد الله بعد ذلك لا ينام من الليل إلا قليلاً. (متفق عليه).
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: يا عبد الله لا تكن مثل فلان؛ كان يقوم الليل فترك قيام الليل. (متفق عليه).
مذکورہ بالا دونوں روایتوں میں آنحضرت ﷺ نے مداومت کی طرف رغبت دلائی یہ مطلب نہیں کہ دونوں صحابی بالکل قیام اللیل نہیں کرتے تھے ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر کے بارے میں شراح نے لکھا ہے کہ وہ قیام اللیل نہیں کرتے تھے اس لیے تنبیہ فرمائی، لیکن صحابی جلیل سے یہی متوقع ہے کہ وہ کرتے تھے لیکن مداومت نہیں کرتے تھے تو آپ نے مداومت کی طرف رغبت دلائی ۔
ملاحظہ ہو علامہ عینی رحمہ اللہ (
۷٦۲
۔
۸۵۵
ھ) دوسری حدیث کی شرح کرتے ہوے فرماتے ہیں:
وفيه: استحباب الدوام على ما اعتاده المرء من الخير من غير تفريط. وفيه: الإشارة إلى كراهة قطع العبادة وإن لم تكن واجبة. (عمدة القاري: ۵/۵۰٤، كتاب التهجد، ط: ملتان).
(وكذا في فتح الباري:
۳
/
۳۸
، وفتح الملهم:
۵
/
۳۱۳
، ط: دمشق).
علامہ حصکفی رحمہ اللہ (
۱۰۲۵
۔
۱۰۸۸
ھ) سجدۂ شکر کے تحت فرماتے ہیں:
مستحبة به يفتي لكنها تكره بعد الصلاة لأن الجهلة يعتقدونها سنة أو واجبة وكل مباح يؤدي إليه فمكروه. وفي رد المحتار: (قوله فمكروه) الظاهر أنها تحريمية لأنه يدخل في الدين ما ليس منه. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۱۲۰، باب سجود التلاوة، سعيد).
کفایت المفتی میں ہے:
کسی امر مستحب کو ضروری سمجھنا اس کو حد کراہت تک پہنچا دیتا ہے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کی حدیث سے ثابت ہے ۔ (کفایت المفتی:
۱
/
۱۵۷
) ۔
حدیث شریف میں ہے:
عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: لا يجعل أحدكم للشيطان شيئاً من صلاته يرى أن حقاً عليه أن لا ينصرف إلا عن يمينه، لقد رأيت رسول الله ﷺ كثيراً ينصرف عن يساره. (رواه البخاري، رقم: ۸۵۲، واللفظ له، ومسلم، رقم: ۷۰۷، وأبو داود، رقم: ۱۰٤٤، وابن ماجه: رقم ۹۳۰).
فتح الباری میں ہے:
وإنما كره ابن مسعود رضي الله عنه أن يعتقد وجوب الانصراف عن اليمين. (فتح الباري: ۲/۳۳۸، وكذا في لامع الدراري: ۱/۳٤۵).
ملا علی قاری رحمہ اللہ (م
۱۰۱٤
ھ) مرقات میں فرماتے ہیں:
قال الطيبي: وفيه أن من أصر على أمر مندوب وجعله عزماً وما لم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف من أصر على بدعة أو منكر. (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: ۲/۳۵۳).
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.