شادی کے بعد لڑکی کے لیے می کے میں قصر کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #389Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۵): مسافرت میں نماز پڑھنے کا بیان

Question

اگر کسی لڑکی کا نکاح کسی ایسے شہر میں ہو جائے جو لڑکی کے والدین سے ۸۱ کلو میٹر سے زائد کی مسافت پر ہو اور وہ لڑکی والدین کے ہاں دس دن گزارنے کے لیے آ جائے تو قصر کرے گی یا اتمام؟

Answer

شادی کے بعد لڑکی نے اپنے سسرال کو وطنِ اصلی بنا لیا اور وہیں پر سکونت اختیار کر لی پھر اپنے می کے میں دس دن گزارنے کے لیے آ جائے تو قصر کرے گی ۔ ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:

والوطن الأصلي هو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخري اتخذها داراً وتوطن بها مع أهله وولده وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها وهذا الوطن يبطل بمثله لا غير وهو أن يتوطن في بلدة أخري وينقل الأهل إليها فيخرج الأول من أن يكون وطناً أصلياً حتى لو دخله مسافراً لا يتم. (البحر الرائق: ۲/۱۳٦، باب المسافر، الماجدية. وكذا في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ص ٤۲۹، باب صلاة المسافر، قديمي. وكذا في شرح منية المصلي: ص٥٤۱، سهيل ايكدمي)

امداد الاحکام میں ہے:
اگر بیوی اپنے وطن میں نہیں رہتی بلکہ شوہر کے پاس رہتی ہے تو شوہر اور بیوی دونوں بحالتِ سفر وہاں قصر کریں گے ۔
بدليل قصره ﷺ وأهله بمكة
۔ (امداد الاحکام:
۱/۷۱۹
، فصل فی صلاۃ المسافر)
نیز ملاحظہ ہو: فتاوی دار العلوم دیوبند: ٤/
٤۸۳
۔ و اسلامی فقہ از مولانا مجیب اللہ ندوی:
۱/۲۹٥
۔ و آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۲/۳۸۳
۔ و بہشتی زیور:
۲/٥۰
۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.