شوہر نے بیوی کو کسی اور شہر میں ٹھہرایا جب شوہر وہاں جائے تو قصر کا حکم:
Question
ایک شخص کسی اور جگہ رہتا ہے اور بیوی کو کسی دوسری جگہ رکھا ہے اس شخص کی آمد و رفت اکثر بیوی کے ہاں رہتی ہے تو اس آمد و رفت میں اگر
۱
۵ دن سے کم رہنے کی نیت ہو تو قصر کرے گا یا اتمام؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں شوہر اس آمد و رفت میں بیوی کے ہاں اتمام کرے گا، اس لیے کہ یہ اس کا وطنِ اصلی ہے، اور وطنِ اصلی ایک سے زائد ہو سکتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو فتاوی سراجیہ میں ہے:
إذا دخل المسافر بلدة له فيها أهل صار مقيماً نوى الإقامة أولا. (الفتاوى السراجية: ص۱۲، آرام باغ كراچي، باب صلاة المسافر)
البحر الرائق میں ہے:
قيدنا بكونه انتقل عن الأول بأهله لأنه لو لم ينتقل بهم ولكنه استحدث أهلاً في بلدة أخري فإن الأول لم يبطل ويتم فيها. (البحر الرائق: ۲/۱۳٦، باب المسافر، الماجدية)
مراقی الفلاح میں ہے:
وإذا لم ينقل أهله بل استحدث أهلاً أيضاً ببلدة أخري فلا يبطل وطنه الأول وكل منها وطن أصل له. وفي الطحطاوي: وكذا لو اسحدث أهلاً في ثلاث مواضع فالحكم واحد فيما يظهر. (مراقي الفلاح مع حاشية الطحطاوي: ص ٤۲۹، قديمي)
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: امداد الاحکام:
۱/۷۱۹
، فصل فی صلاۃ المریض و المسافر، دار العلوم کراچی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.