والدین کی جائے اقامت میں قصر کا حکم:
Question
ایک شخص اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا پھر وہاں سے دوسری جگہ منتقل ہو گیا جہاں ملازمت وغیرہ کرتا ہے ۔ اب اس شخص کے لیے درست ہے کہ ملازمت کی جگہ کو وطنِ اصلی قرار دے کر پہلے وطنِ اصلی میں اپنے آپ کو مسافر شمار کرے؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں سائل جب مع اپنے اہل و عیال اور سامان کے ملازمت کی جگہ منتقل ہو گیا اور وہیں رہنے کا ارادہ بھی کر لیا تو جائے ملازمت اس کے لیے وطنِ اصلی بن گیا اب پہلی جگہ آئے تو مسافر شمار ہوگا ۔ اس لیے کہ صرف والدین کا ہونا وطنِ اصلی کے لیے کافی نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
ومن كان له وطن فانتقل منه واستوطن غيره ثم سافر فدخل وطنه الأول قصر لأنه لم يبق وطناً له ألا تري أنه عليه الصلاة والسلام بعد الهجرة عد نفسه بمكة من المسافرين. (هداية: ۱/۱٦۷)
بدائع الصنائع میں ہے:
فالوطن الأصلي ينتقض بمثله لا غير وهو أن يتوطن الإنسان في بلدة أخري وينقل الأهل إليها من بلدته فيخرج الأول من أن يكون وطناً أصلياً له حتى لو دخل فيه مسافراً لا تصير صلاته أربعاً وأصله أن رسول الله ﷺ والمهاجرين من أصحابه ثكانوا من أهل مكة وكان لهم بها أوطان أصلية ثم لما هاجروا وتوطنوا بالمدينة وجعلوها داراً لا نفسهم انتقض وطنهم الأصلي بمكة حتى كانوا إذا أتوا مكة يصلون صلاة المسافرين حتى قال النبي ﷺ حين صلى بهم أتموا يا أهل مكة صلاتكم فإنا قوم سفر. (بدائع الصنائع: ۱/۱۰۳، سعيد. وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۱٤۲. والبحر الرائق۲/۱۳٦، باب المسافر، الماجدية:).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.