جمعہ مبارک کہنے کا حکم:
Question
بعض لوگوں میں یہ دستور ہے کہ وہ جمعہ کے دن جب ملتے ہیں تو جمعہ مبارک کہتے ہیں، کیا جمعہ مبارک کہنا درست ہے یا نہیں؟
Answer
جمعہ مبارک کہنا احادیث سے ثابت نہیں ہے اس لیے نہیں کہنا چاہیے اور یہ رسم قابل ترک ہے ۔ اگر چہ جمعہ کو احادیث میں عید کہا گیا ہے لیکن جمعہ مبارک یا جمعہ کے بارے میں
تقبل الله منك
ہمارے علم میں صحابہ کرام سے ثابت نہیں ۔ ملاحظہ ہو
إتحاف الخيرة المهرة
میں مذکور ہے:
ورواه أبو يعلى أيضا بسند صحيح ولفظه: أن رسول الله ﷺ قال: أتاني جبريل بمثل المرآة البيضاء فيها نكتة سوداء فقلت: يا جبريل ما هذا؟ قال: هذه الجمعة جعلها الله تعالى عيداً لك ولأمتك
الخ. (۳/۸).
وعن ابن السباق أن النبي ﷺ قال في جمعة من الجمع: إن هذا يوم عيد جعله الله عزوجل للمسلمين فاغتسلوا، ومن كان عنده طيب فلا يضره أن يمس منه وعليكم بالسواك. (۳/۲٦/۲۱٦۱).
وعن قيس بن السكن أن ناساً من أصحاب عبد الله أتوا أبا الدرداء رضي الله عنه في يوم جمعة وهم صيام فقال: إن هذا يوم عيد فأقسم عليهم أن يفطروا. (۳/٤۲۷/۳۰۲٥).
روایاتِ مذکورہ بالا میں اگر چہ جمعہ کو عید کہا گیا ہے لیکن اس کے لیے جمعہ مبارک یا دوسرے الفاظ فقہا کے کلام میں نظر سے نہیں گزرے ۔ اس لیے یہ الفاظ نہیں بولنا چاہیے اور اس رسم کی حوصلہ شکنی مناسب ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.