طلبہ سے سزا کے طور پر نماز پڑھوانا:

1 min readFatwa Vol 2 #465Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۸): مسائل شتیٰ نماز کے متفرق مسائل

Question

بعض مدارس میں طلبہ سے سزا کے طور پر ۳۰ یا ۵۰ رکعت نوافل پڑھوائی جاتی ہے کیا نماز کو سزا کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا اس نماز کا ثواب اس کو ملے گا؟

Answer

مدارس میں طلبہ سے سزا کے طور پر نماز پڑھوانا درست ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے نیز نماز کا ثواب بھی اس کو ملے گا جیسا کہ نبی پاک ﷺ نے کسرِ شہوت کے لیے روزہ رکھنے کو فرمایا تو اس میں روزہ کا ثواب بھی ہے اور کسرِ شہوت بھی ہے ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج ومن لم يستطع ف عليه بالصوم فإنه له وجاء. (بخاري شريف: ۲/۷٥۸. ومشكاة: ۲/۲٦۷)

ظاہر ہے کہ یہ روزہ براہِ راست رضاءِ الٰہی کے لیے نہیں بلکہ زنا سے بچنے کے لیے کسرِ شہوت ہے یہاں بھی نماز پڑھوانا نفس کو سزا دینے اور مدرسہ کے احکام بجا لانے کے لیے ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.