قریب المرگ شخص کو لٹانے کا طریقہ:
Question
آدمی جب مرنے لگے تو اس کو کس طرح لٹانا چاہیے؟
Answer
قریب المرگ شخص کو لٹانے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ قبلہ رخ کر کے داہنی کروٹ پر کر دے، لیکن اگر چت لٹا دے اور سر کو تکیہ کے ذریعہ قبلہ رخ کر دے تو اس کی بھی گنجائش ہے، اور بوقتِ دشواری جس میں سہولت ہو اس کو اختیار کرے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
إذا احتضر الرجل وجه إلى القبلة على شقه الأيمن وهو السنة كذا في الهداية، وهذا إذا لم يشق عليه فإذا شق ترك على حاله كذا في الزاهدي. (الفتاوى الهندية: ۱/۱٥۷، الفصل الأول في المحتضر)
در مختار میں ہے:
(يوجه المحتضر) وعلامته استرخاء قدميه واعوجاج منخره وانخساف صدغيه (القبلة) على يمينه هو السنة (وجاز الاستلقاء على ظهره وقدماه إليها وهو المعتاد في زماننا، ولكن يرفع قليلاً ليتوجه للقبلة وقيل يوضع كما تيسر على الأصح صححه في المبتغى وإن شق عليه ترك على حاله. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۱۸۹، سعيد كمپني)
بدائع الصنائع میں ہے:
إذا احتضر الإنسان فالمستحب أن يوجه إلى القبلة على شقه الأيمن كما يوجه في القبر لأنه قرب موته فيضجع كما يضجع الميت في اللحد. (بدائع الصنائع: ۱/۲۹۹، سعيد كمپني)
مرنے کے بعد غسل کے وقت بھی یہی بہتر ہے کہ قبلہ رخ میت کو لٹایا جائے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.