قبرستان میں بوقتِ دعا استقبالِ قبلہ کا حکم:
Question
قبرستان میں بوقتِ دعا استقبالِ قبلہ کرے یا قبر کی طرف متوجہ ہو؟
Answer
قبرستان میں اگر ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہے تو استقبالِ قبلہ کرے تاکہ شرک کا وہم نہ رہے اور اگر بغیر ہاتھ اٹھائے دعا کرتا ہے تو قبر کی طرف متوجہ ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
فإذا بلغ المقبرة يخلع ن عليه ثم يقف مستدبر القبلة مستقبلاً لوجه الميت ويقول السلام على كم
وإذا أراد الدعاء يقول مستقبل القبلة كذا في خزانة الروايات. (الفتاوى الهندية ٥/۳٥۰، الباب السادس عشر في زيارة القبور)
شامی میں ہے:
قال في الفتح والسنة زيارتها قائماً والدعاء عندها قائماًكما كان يفعله ﷺ في الخروج إلى البقيع ويقول السلام على كم
ومن آدابها أن يسلم بلفظ السلام عليكم على الصحيح
ثم يدعو قائماً طويلاً. (شامي: ۲/۲٤۲، مطلب في زيارة القبور، سعيد)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
دعا بغیر ہاتھ اٹھائے بھی کی جا سکتی ہے اور ہاتھ اٹھا کر بھی حضرت نبی آ کرم ﷺ نے دفن کے بعد قبلہ کی طرف رخ فرما کر ہاتھ اٹھا کر دعا کی ہے اگر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا چاہے تو آنحضرت ﷺ کی پیروی کرتے ہوے قبر کی طرف رخ نہ کیا جائے بلکہ قبلہ کی طرف رخ کر لیا جائے ۔
وفي حديث ابن مسعود رضي الله عنه رأيت رسول الله ﷺ في قبر عبد الله ذي البجادين الحديث فيه فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعاً يديه أخرجه أبو عوانة في صحيحه. (فتح الباري شرح بخاري شريف: ۱۱/۱٤٤. وشرح صحيح مسلم شريف للنووي: كتاب الجنائز فصل في الذهاب إلى زيارة القبور: ۱/۳۱۳). (
فتاوی محمودیہ: ۹/۱٤۷، مبوب و مرتب ۔ و احسن الفتاوی: ٤/۲۱۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.