قبر پر اذان دینے کا حکم:
Question
بعض علاقوں میں قبر پر اذان دینے کا طریقہ رائج ہے شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟
Answer
آنحضرت ﷺ اور صحابۂ کرام و تابعین سے قبر پر اذان دینا ثابت نہیں ہے، اسی وجہ سے فقہاء اہل سنت نے اس کو بدعت کہا ہے ۔
ملاحظہ ہو فتح القدیر میں ہے:
ويكره
كل ما لم يعهد من السنة والمعهود منها ليس إلا زيارتها والدعاء عندها قائماً كما كان يفعل ﷺ في الخروج إلى البقيع. (فتح القدير: ۲/۱٤۲، قبيل باب الشهيد، دار الفكر. وكذا في الهندية: ۱/۱٦٦. والبحر الرائق: ۲/۱۹٦، كوئته).
شامی میں ہے:
في الاقتصار على ما ذكر من الوارد إشارة إلى أنه لا يسن الأذان عند إدخال الميت في قبره كما هو المعتاد الآن، وقد صرح ابن حجر رحمه الله في فتاواه بأنه بدعة وقال: من ظن أنه سنة قياساً على ندبهما للمولود إلحاقاً لخاتمة الأمر بابتدائه فلم يصب. (الشامي: ۲/۲۳۵، سعيد).
احسن الفتاوی میں ہے:
اذان علی القبر کسی شرعی دلیل سے ثابت نہیں اس لیے بدعت ہے "
توشيح شرح تنقيح لمحمود البلخي"
میں بھی اذان علی القبر کو "
ليس بشيء"
لکھا ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۱/۳۳۷) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
قبر پر اذان دینا بے اصل ہے، آنحضرت ﷺ اور آپ کے جانشین خلفائے راشدین و صحابہ رضي الله عنه اجمعین اور تابعین تبعِ تابعین، ائمہ مجتہدین، امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، امام نسائی، امام ابو داود، وغیرہ رحمہم اللہ سے ثابت نہیں، یہ سنت رسول اللہ
ﷺ
اور صحابۂ کرام کے مبارک طریقہ کے موافق نہیں، بدعتِ مخترعہ اور واجب الترک ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۶/۱۹۷) ۔
مزید ملاحظہ ہو: فتاوی رحیمیہ: ۶/۱۹۷ ۔ ۲۱۱ ۔ و راہِ سنت: ۲۲۴ ۔ ۲۳۸ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.