مسلمانوں کے قبرستان میں غیر مسلم کی قبر ہو تو اس کا حکم:
Question
حکومت نے مسلمانوں کو قبرستان کے لیے زمین دی اس میں عیسائی کی ایک قبر ہے، باقی زمین بالکل خالی ہے جو بہت بڑی ہے اب اس ایک قبر کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں غیر مسلم کی قبر کو اکھاڑا نہیں جائے گا بلکہ دیوار کے ذریعہ احاطہ کر لیا جائے گا، چنانچہ غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے قبرستان کے درمیان دیوار کا احاطہ ہوتا ہے اور اسی کو حائل سمجھا جاتا ہے، اسی طرح ایک قبر میں دو آدمیوں کو دفن کرتے وقت مٹی سے آڑ بنانے سے عند الضرورۃ دو قبروں کے حکم میں ہو جاتی ہے، لہذا درمیان میں دیوار لگانے سے علیحدگی ہو جائے گی ۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:
وفي الواقعات عظام اليهود لها حرمة إذا وجدت في قبورهم كحرمة عظام المسلمين حتى لا تكسر. (البحر الرائق: ۲/۱۹٥، كوئٹه)
مراقی الفلاح میں ہے:
ولا بأس بدفن أكثر من واحد في قبر واحد للضرورة قاله قاضيخان، ويحجز بين كل اثنين بالتراب هكذا أمر رسول الله ﷺ في بعض الغزوات. وفي الطحطاوي قوله: ويحجز بين كل اثنين بالتراب ندباً إن أمكن كما في ابن أمير حاج ليكون في حكم قبرين كما في العيني على البخاري. (حاشية الطحطاوي مع مراقي الفلاح: ٦۱۲، فصل في حملها ودفنها، قديمي)
البحر الرائق میں ہے:
ويجعل بين كل ميتين حاجزاً من التراب ليصير في حكم قبرين هكذا أمر النبي ﷺ في شهداء أحد. (البحر الرائق: ۲/۱۹٤، كوئته)
نیز فقہاء نے ــ "احیاء الموات" کے تحت فرمایا ہیں کہ حد بندی سے بھی زمین الگ ہو جاتی ہے ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
والتحجير للإعلام سمي به لا نهم كانوا يعلمونه بوضع الأحجار أو يعلمونه لحجر غيرهم عن إحياء ه، ثم التحجير قد يكون بغير الحجر بأن غرز حولها أغصاناً يابسة أو نقي الأرض وأحرق ما فيها من الشوك وخضد ما فيها من الحشيش أو الشوك وجعلها حولها وجعل التراب على ها. (هداية ٤/٤۷۹)
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.