ابو طالب کا مذہب:
Question
ابو طالب کا مذہب کیا ہے؟ کیا ان کے نام کے ساتھ جناب یا خواجہ استعمال کر نا صحیح ہو گا؟
Answer
ابو طالب آنحضرت ﷺ کے حقیقی چچا تھے اور کفر پر رہنے کے باوجود انہوں نے آپ کی خدمت اور تر بیت کی لیکن جمہور کے نزدیک وہ کفر ہی پر دنیا سے انتقال کر گئے، اس وجہ سے ان کے لیے حضرت کا لفظ استعمال نہیں کر نا چاہیے، کیونکہ حضرت کا لفظ زیادہ تعظیم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ہمارے اکابر نے صرف ابو طالب کا لفظ ہی استعمال کیا ہے ۔
ملاحظہ ہو مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ نبی رحمت میں تحریر فرماتے ہیں:
دادا کے انتقال کے بعد آپ اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ رہنے لگے ۔ (نبی رحمت: ۱/۱۰٦) ۔
سیرۃ المصطفی میں حضرت مولانا ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
عبد المطلب کی وفات کے بعد آپ اپنے چچا ابو طالب کی آغوش تربیت میں آ گئے ۔ (سیرۃ المصطفی ۱ /۸۷) ۔
سیرۃ خاتم الانبیاء میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس کے بعد آپ کے حقیقی چچا ابو طالب آپ کے ولی ہوے ۔ (سیرۃ خاتم الانبیاء ص ۱٦) ۔
ہاں ان کی خدمات کو سامنے رکھتے ہوے اگر احترام کا کوئی ہلکا سا لفظ استعمال کر لیا جائے تو درست ہے ۔
جیسے مولانا عبد الرؤوف داناپوری نے اصح السیر میں جناب خواجہ ابو طالب کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ (اصح السیر ص ۵۱) ۔
مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی رحمہ اللہ نے بھی صرف ابو طالب کا لفظ استعمال کیا ہے، شیعہ چونکہ ابو طالب کو سب سے بڑا مسلمان سمجھتے ہیں اس لیے ان کی مشابہت سے بچتے ہوے ابو طالب کے لیے حضرت کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے، تاہم ناجائز اور حرام بھی نہیں ۔
اس تحریر کا خلاصہ درجِ ذیل ہے ۔
(۱) ابو طالب حالتِ کفر میں انتقال کر چ کے ہیں ۔
(۲) اکابر نے ان کے نام کے ساتھ حضرت کا لفظ استعمال نہیں کیا ۔
(۳) حضرت کا لفظ لا نے میں شیعوں کے ساتھ مشابہت ہے ۔
(٤) ان کی خدمات کو سامنے رکھتے ہوے ہلکا سا لفظ جیسے جناب استعمال کر نے کی گنجائش معلوم ہو تی ہے، جیسے آنحضرت ﷺ نے ہر قل کے لیے عظیم الروم کا لفظ استعمال فرمایا ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.