مدینہ منورہ کی خاکِ شفا کی تحقیق:

4 min readFatwa Vol 1 #89Urdu
Vol. 1كتاب الإيمان والعقائدباب ٨:سیرا ور تاریخ کا بیان

Question

خاکِ شفا کسی خاص مٹی کو کہتے ہیں یا خاکِ شفا مدینہ منورہ کی پوری زمیں ہے؟

Answer

خاکِ شفا کا ثبوت حدیث سے ہے اور بظاہر اس سے مدینہ منورہ کی پوری زمیں مراد ہے ۔
بخاری شریف میں ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت كان النبي يقول في الرقية تربة أرضنا وريقة بعضنا يشفي سقيمنا بإذن ربنا. (رواه البخاري: ۲/۸۵۵).

یہ حدیث مسلم شریف (۲/۲۲۳)، ابو داود (۵٤٤)، مصنف ابن ابی شیبۃ (۲۱/۸٤)، صحیح ابن حبان (۷/۲۳۸) اور مستدرک حاکم (٤/٤۵۷) میں ہے ۔
اس کی تعیین میں علماء کرام کی مختلف آراء ہیں ان میں اکثر نے اس حدیث کو عام رکھا اور فرمایا کہ "
تربة أرضنا"
سے پوری زمیں مراد ہے ۔

الآداب الشرعية
میں ہے:

"تربة أرضنا" وذكره، والمراد جميع الأرض، وقيل أرض المدينة لبركتها. (الآداب الشرعية: ۳/۲۱۹).
بريقة محمودية
میں ہے:

قال الجمهور: جملة الأرض وقيل: أرض المدينة خاصة لرقتها. (بريقة محمودية: ۲/۱۷۵، النوع الثالث العلوم المندوب إليها).

یہی عبارت "
إكمال إكمال المعلم" (۷/۳۷۷)
اور
"المفهم" (۵/۵۸۰)
میں بھی موجود ہے ۔
عون المعبود میں ہے:

قال الحافظ ابن القيم: هذا من العلاج السهل الميسر النافع المركب وهي معالجة لطيفة يعالج بها القروح والجراحات الطرية لا سيما عند عدم غيرها من الأدوية إذ كانت موجودة بكل أرض. (عون المعبود: ۹/۸۲۵).
الآداب الشرعية (كتاب رقي الحمي)
میں ہے:

ولبعض التراب خاصية كغيره من المخلوقات ولهذا قال جالينوس رأيت بالإسكندرية مطحولين ومستسقين كثيراً يستعملون طين مصر ويطلون به على سوقهم وأفخاذهم وسواعدهم وظهورهم وأضلاعهم فينتفعون به منفعة بينة قال: وعلى هذا النحو فقد ينفع هذا الطلاء للأورام العفنة والمترهلة والرخوة قال: وإني لأعرف قوما ترهلت أبدانهم كلها من كثرة استفراغ الدم من سفل انتفعوا بهذا الطين نفعاً بيناً، وقوماً آخرين شفوا به أوجاعاً مزمنة كانت متمكنة في بعض الأعضاء تمكيناً شديداً فبرئت وذهبت أصلاً وقال المسيحي: قوة الطين المجلوب من كبرس وهي جزيرة المصطكي قوة تجلو وتغسل وتنبت اللحم في القروح وتختم القروح فما ظنك بتربة خير الأرض خالطت ريق رسول الله ﷺ مع الطب الإلٰهي منه. (الآداب الشرعية للعلامة شمس الدين ابن مفلح المقدسي الحنبلي: ۳/۲۲۰).

درج کردہ عبارتوں سے معلوم ہوا کہ پوری زمیں مراد ہے اور مٹی کی طبیعت میں اصل ٹھنڈک ہے جو اس زخم کی حرارت کو دور کرتی ہے تو یہ صفت ہر مٹی میں پائی جاتی ہے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اللہ تعالی نے مختلف مکانوں کی مٹی میں تاثیر رکھی ہے مگر دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ منورہ کی مٹی کو خاص فضیلت حاصل ہے اور اس میں تاثیر و برکت ہے ۔
تاریخ مدینہ منورہ میں ہے:
علامہ قسطلانی رحمہ اللہ نے مواہبِ لدنیہ میں مدینہ منورہ کی خصوصیت میں لکھا ہے کہ اس کا غبار جذام اور برص
کے لیے خصوصیت کے ساتھ شفاء ہے ۔
علامہ زرقانی رحمہ اللہ بعض لوگوں کے حالات میں لکھتے ہیں جن کو برص کی بیماری تھی اور مدینہ کی پاک مٹی سے وہ اچھے ہو گئے ۔ (تاریخ مدینہ منورہ، ص ۷۱) ۔
ابو داود شریف میں ہے:

"أن النبي ﷺ دخل على ثابت بن قيس بن شماس رضي الله عنه وهو مريض فقال: اكشف البأس رب الناس ثم أخذ تراباً من بطحان فجعله في قدح ثم نفث عليه ثم صبه عليه. (أبو داود، ۵٤۲).

اگر چہ اس میں بطحان کا ذکر ہے یہ بھی دلالت کرتا ہے کہ مدینہ منورہ کی مٹی برکت اور شفاء والی ہے ۔ جہاں تک بعض لوگوں نے شفا کو خاص کیا بطحان کی مٹی کے ساتھ، تو اس میں کوئی تخصیص کی وجہ نہیں جب کہ دوسری احادیث کے عموم سے پورے مدینہ منورہ کی مٹی مراد ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ خاکِ شفا مدینہ منورہ کی پوری زمیں ہے، لیکن اس میں غلو اور حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.