حیات النبی ﷺ پر اشکال اور جواب:

2 min readFatwa Vol 3 #28Urdu
Vol. 3باب (۱۹): احکام الجنائز

Question

اشکال: بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ قرآن کریم کے خلاف ہے؟ قرآن کریم میں ہے:
﴿إن تدعوهم لا يسمعوا دعاء كم﴾.

Answer

اس کا جواب تفسیر مظہری میں ہے:

(إن تدعوهم) لقضاء حاجتكم (لا يسمعوا دعاءكم) لأنها جمادات، (ولو سمعوا) على سبيل الفرض أو على تقدير كونهم ذا شعور كإبليس (ما استجابوا لكم) لعدم قدرتهم على الإنفاع أو لتبرئهم منكم ومما تدعون لهم من الألوهية كعيسى وعزير والملائكة. (تفسير مظهري: ۸/۵۰).

اور اگر اس کو عام کر لیا جائے اور انبیاء (جن سے بعض لوگ مدد مانگتے ہیں) کو شامل کر لیا جائے تو پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرمان:
﴿فإنهم عدو لي إلا رب العالمين﴾
میں "
هم"
کی ضمیر ذو العقول کے لیے ہے تو سارے اولیاء و انبیاء جو ان سے پہلے گزرے ہیں وہ ان کے دشمن ہو جائیں گے ۔
الغرض اس آیت کا تعلق ہی سماع انبیاء سے نہیں ہے ۔
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وأما قوله ﴿وما أنت بمسمع من في القبور﴾ فسياق الآية يدل على أن المراد منها أن الكافر الميت القلب لا تقدر على إسماعه إسماعاً ينتفعون به كما أن من في القبور لا تقدر على إسماعهم إسماعاً ينتفعون به، ولم يرد سبحانه أن أصحاب القبور لا يسمعون شيئاً البتة كيف وقد أخبر النبي ﷺ أنهم يسمعون خفق نعال

وشرع السلام عليهم بصيغة الخطاب الذي يسمع

(كتاب الروح، ص ۵۵).

الغرض آیاتِ قرآنیہ میں مردوں سے مطلقاً سماع کی نفی نہیں کی گئی، بلکہ زندہ کفار سے اس سماع کی نفی کی گئی ہے جو سماع مفید اور نافع ہو سکتا ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.