کرایہ کے مکان پر زکوٰۃ کا حکم:
Question
میں نے ایک مکان کرایہ پر دیا ہے تو کیا اس کی قیمت پر ہر سال زکوٰۃ واجب ہے یا اس کے کرایہ کی رقم پر واجب ہے؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں مکان کی قیمت پر زکوٰۃ لازم نہیں، البتہ کرایہ کی رقم بقدرِ نصاب ہو یا دوسری رقم کے ساتھ ملا کر بقدرِ نصاب ہو تو سال گزرنے پر زکوٰۃ لازم ہو گی ۔
البحر الرائق میں ہے:
ولو آجر عبد ه أو داره بنصاب إن لم يكونا للتجارة لا تجب ما لم يحل الحول بعد القبض في قول أبي حنيفة رحمه الله. (البحر الرائق: ۲/۲۰۸، كوئته).
در مختار میں ہے:
ولا زكاة على مكاتب
ولا ثياب البدن وأثاث المنزل ودور السكني ونحوها وكذا الكتب. قال الشامي: ونحوها أي كثياب البدن الغير المحتاج إليها وكالحوانيت والعقارات. (الدر مع الشامي: ۲ /۲٦٤، ۲٦۵، سعيد).
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
جائداد کی قیمت پر زکوٰۃ لازم نہ ہو گی بلکہ کرایہ کی آمدنی پر جو نصاب کی مقدار کو پہنچ جائے، اور اس پر تنہا یا دیگر رقومِ موجود ہ کے ساتھ سال پورا ہو جاوے زکوٰۃ لازم ہو گی ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ٦/۱۳۳) ۔
آپ کے مسائل میں ہے:
میرے پاس دو مکان ہیں، ایک میں میں خود رہائش پذیر ہوں اور دوسرا کرایہ پر، تو آیا زکوٰۃ مکان کی مالیت پر ہے یا اس کے کرایہ پر؟
جواب: اس صورت میں زکوٰۃ مکان کی قیمت پر واجب نہیں، البتہ اس کے کرایہ پر جب کہ نصاب کو پہنچے تو زکوٰۃ ہو گی ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۳/۳۷۱) ۔
کفایت المفتی میں ہے:
مکان پر یا اس کی قیمت پر تو کسی حال میں زکوٰۃ نہیں خواہ رہائش ہو یا نہ ہو (کیونکہ غیر نامی ہے) ہاں اگر مکانات کی تجارت کی جاتی ہو تو بہ حیثیت مالِ تجارت ہونے کے ان کی قیمت پر زکوٰۃ ہو گی ۔
(۲) زکوٰۃ مکان کی قیمت پر نہیں آمدنی پر ہے ۔ (کفایت المفتی: ٤/۲٦۳) ۔
ایضاح المسائل میں ہے:
کسی کی ملکیت میں زائد مکان یا دوکان ہے جو کرایہ پر دے رکھا ہے، یا گاڑی، مشین وغیرہ کرایہ پر دے رکھی ہے تو ان کی قیمت پر زکوٰۃ واجب نہیں بلکہ ان کی آمدنی میں سال گزرنے پر زکوٰۃ واجب ہے یا پہلے سے نصاب کے بقدر روپیہ یا چاندی وغیرہ موجود ہے تو مذکورہ اشیاء کی آمدنی پر سال گزرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ آمدنی کو سابق رقم کے ساتھ ملا کر زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے ۔ مجمع الانہر: ۱/۲۲، امداد الفتاوی: ۲/٤۱ ۔ (ایضاح المسائل: ص ۱۰۵، نعیمیہ)
مزید ملاحظہ ہو: فتاوی محمودیہ: ۹/٤۲۵، جامعہ فاروقیہ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.