۱۰/ لاکھ کے مکان پر زکوٰۃ کا حکم:

4 min readFatwa Vol 3 #73Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۱): وجوبِ زکوٰۃ کا بیان

Question

ایک شخص نے اپنا ۱۰ لاکھ کا مکان کرایہ پر دیا ہے اور اس کی آمدنی کا صرف یہی ذریعہ ہے کرایہ کی آمدنی سالانہ ۲٤ ہزار رینڈ ہے اور وہ اس گھر کی زکوٰۃ ہر سال ۲۵ ہزار (۱۰ لاکھ میں سے ڈھائی فیصد) ادا کرتا ہے اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ بالا صورت میں زکوٰۃ کے اسقاط کا کوئی حیلہ ہے؟

Answer

جو گھر تجارت کے لئے ہو اس کی قیمت پر زکوٰۃ ہے اور جو مکان کرایہ کے لئے ہو اس کی قیمت پر زکوٰۃ نہیں ہے، ہاں کرایہ دوسری رقم کے ساتھ مل کر بقدرِ نصاب ہو کر سال گزر جائے تو اس پر زکوٰۃ لازم ہو گی ورنہ نہیں ۔
البحر الرائق میں ہے:

ولو آجر عبد ه أو داره بنصاب إن لم يكونا للتجارة لا تجب ما لم يحل الحول بعد القبض في قول أبي حنيفة رحمه الله. (البحر الرائق: ۲/۲۰۸، كويٹه).

در مختار میں ہے:

ولا زكاة على مكاتب

ولا ثياب البدن وأثاث المنزل ودور السكني ونحوها وكذا الكتب. قال الشامي: ونحوها أي كثياب البدن الغير المحتاج إليها وكالحوانيت والعقارات. (الدر مع الشامي: ۲/۲۶۴، ۲۶۵، سعيد).

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
جائداد کی قیمت پر زکوٰۃ لازم نہ ہو گی بلکہ کرایہ کی آمدنی پر جو نصاب کی مقدار کو پہنچ جائے، اور اس پر تنہا یا دیگر رقومِ موجود ہ کے ساتھ سال پورا ہو جائے زکوٰۃ لازم ہو گی ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ٦/۱۳۳) ۔
آپ کے مسائل میں ہے:
میرے پاس دو مکان ہیں، ایک میں میں خود رہائش پذیر ہوں اور دوسرا کرایہ پر، تو آیا زکوٰۃ مکان کی مالیت پر ہے یا اس کے کرایہ پر؟
جواب: اس صورت میں زکوٰۃ مکان کی قیمت پر واجب نہیں، البتہ اس کے کرایہ پر جب کہ نصاب کو پہنچے تو زکوٰۃ ہو گی ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۳/۳۷۱) ۔
کفایت المفتی میں ہے:
مکان پر یا اس کی قیمت پر تو کسی حال میں زکوٰۃ نہیں خواہ رہائش ہو یا نہ ہو (کیونکہ غیر نامی ہے) ہاں اگر مکانات کی تجارت کی جاتی ہو تو بہ حیثیت مالِ تجارت ہونے کے ان کی قیمت پر زکوٰۃ ہو گی ۔
(۲) زکوٰۃ مکان کی قیمت پر نہیں آمدنی پر ہے ۔ (کفایت المفتی: ٤/۲٦۳، ۲٦٤) ۔
ایضاح المسائل میں ہے:
کسی کی ملکیت میں زائد مکان یا دوکان ہے جو کرایہ پر دے رکھا ہے، یا گاڑی، مشین وغیرہ کرایہ پر دے رکھی ہے تو ان کی قیمت پر زکوٰۃ واجب نہیں بلکہ ان کی آمدنی میں سال گزرنے پر زکوٰۃ واجب ہے یا پہلے سے نصاب کے بقدر روپیہ یا چاندی وغیرہ موجود ہے تو مذکورہ اشیاء کی آمدنی پر سال گزرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ آمدنی کو سابق رقم کے ساتھ ملا کر زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے ۔ مجمع الانہر: ۱/۲۲، امداد الفتاوی: ۲/٤۱ ۔ (ایضاح المسائل: ص ۱۰۵، نعیمیہ) ۔
کتاب الفتاوی میں ہے:
مکان پر اس وقت زکوٰۃ واجب ہوتی ہے جب مکان تجارتی مقصد سے حاصل کیا گیا ہو، مکان ضرورت سے زیادہ ہو، لیکن مقصود تجارت نہ ہو، بلکہ کرایہ پر لگانا، یا کسی اور کام میں استعمال کرنا ہو تو اب اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ۔ (کتاب الفتاوی: تیسرا حصہ ص ۲۷۱) ۔
مزید ملاحظہ ہو: فتاوی محمودیہ: ۹/٤۲۵، جامعہ فاروقیہ، جدید فقہی مسائل: ۱/۲۰۵ تجارت اور کرایہ داری میں فرق ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.