دھوبی کے صابون وغیرہ میں زکوٰۃ کا حکم:

1 min readFatwa Vol 3 #75Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۱): وجوبِ زکوٰۃ کا بیان

Question

اگر دھوبی نے کپڑوں کو دھونے کے لئے صابون یا رنگ مثلا زرد رنگ رکھا ہے تو حولانِ حول کے بعد اس میں زکوٰۃ لازم ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں دھوبی کے صابون وغیرہ میں زکوٰۃ لازم نہیں ہے، کیوں کہ ایسی چیز جس کا اثر مصنوعات میں باقی نہیں رہتا اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، ہاں رنگ خریدا اور اس کی مالیت نصاب کے بقدر ہے اور اس پر سال گزر گیا تب اس پر زکوٰۃ لازم ہو گی ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:

أما إذا كان يبقى أثرها في المعمول كما لو اشتري الصباغ عصفراً أو زعفراناً ليصبغ ثياب الناس بأجر وحال عليه الحول كان عليه الزكاة إذا بلغ نصاباً وإن لم يبق لذلك العين أثر في المعمول كالصابون والحرض لا زكاة فيه. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۷۲، جديد فقهي مسائل: ۱/۲۰۹).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.