فارم میں بھیڑ بکریوں پر زکوٰۃ کا حکم:

1 min readFatwa Vol 3 #86Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۱): وجوبِ زکوٰۃ کا بیان

Question

ایک شخص نے فارم کرایہ پر لیا ہے ۱۰۰ سال کے لئے اور اس میں بھیڑ بکریاں اور گائیں رکھی ہیں، کیا ان پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟ کیونکہ کرایہ کی مشقت ہے ۔

Answer

صورتِ مسئولہ میں اگر جانوروں کو نسل بڑھانے کے لئے رکھا ہے اور بقدرِ نصاب ہیں تو سال گزرنے کے بعد بضابطہ شرعیہ زکوٰۃ لازم ہو گی، اور اگر خرید و فروخت کرتا ہے تو قیمت پر زکوٰۃ لازم ہو گی اور فارم کا کرایہ اس کے منافی نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:

السائمة شرعاً المكتفية بالرعي

. قلت: لكن في القاموس: الكلأ كجبل العشب رطبه ويابسه فلم يقيده بالمرعي

(شامي: ۲/۲۷۵، سعيد).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

فإن كانت تسام في بعض السنة وتعلف في البعض فإن اسيمت في أكثرها فهي سائمة وإلا فلا. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۷٦).

فتاوی قاضی خان:

أما السائمة فهي الراعية التي تكتفي بالرعي. (فتاوى قاضي خان: ۱/۲٤۵).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.