وحشی جانوروں پر وجوبِ زکوٰۃ کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #462Urdu
Vol. 3زكوة، صوم، حج اور نكاح سے متعلق متفرق مسائل:باب (٦): نکاح کے متفرق مسائل

Question

ایک شخص نے اپنے فارم میں وحشی جانوروں کو افزائش نسل کے لیے رکھا ہے، اور ان کا شکار کیا جاتا ہے اور مالک شکاری سے رقم وصول کرتا ہے، کیا ایسے جانوروں پر زکوٰۃ واجب ہو گی یا نہیں؟ یہ مطلب نہیں ہے کہ مالک زندہ جانور کو پکڑ کر فروخت کرے گا بلکہ شکاری شکار کر کے مار ڈالنے یا زخمی کرنے کے بعد قیمت ادا کرے گا، خواہ شکاری جانور تک پہونچے یا نہ پہونچے ۔ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ وحشی جانوروں کو افزائش نسل کے لیے رکھا ہے اس وجہ سے ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے کیوں کہ فقہاء نے وجوبِ زکوٰۃ کے لیے پالتو جانور کی شرط لگائی ہے ۔ اور اگر مخلوط ہو تو ماں کا اعتبار ہوگا، ماں پالتو ہو تو زکوٰۃ واجب ہو گی ورنہ نہیں ۔ ملاحظہ ہو الموسوعہ میں مرقوم ہے:

ذهب أكثر العلماء إلى عدم وجوب الزكاة في بقر الوحش، وعند الحنابلة روايتان

والرواية الثانية عندهم عدم وجوب الزكاة فيها، قال ابن قدامة: وهي أصح، وهو قول أكثر أهل العلم في عدم وجوب الزكاة في بقر الوحش

ولأنها حيوان لا يجزئ نوعه في الأضحية والهدي، فلا تجب فيها الزكاة كالظباء، ولأنها ليست من بهيمة الأنعام، فلا تجب فيها الزكاة كسائر الوحوش، والسر في ذلك أن الزكاة إنما وجبت في بهيمة الأنعام دون غيرها لكثرة النماء فيها، من درها ونسلها وكثرة الانتفاع بها لكثرتها وخفة مؤونتها وهذا المعني يختص بها، فاختصت الزكاة بها دون غيرها. (الموسوعة الفقهية الكويتية: ۸/۱٦۰).

البنایہ فی شرح الہدایہ میں ہے:

فإن قلت: اسم البقر يتناول الوحشي ولا تجب فيها الزكاة قلت: الجاموس أهلي وذلك وحشي، والوحشيات من البقر والغنم وغيرهما لا يعتد به في النصاب وكذا المتولد بين أهلي ووحشي، كذا قاله الكاكي

وعندنا إن كانت الأم أهلية تجب، وإن كانت وحشية لا تجب وبه قال مالك رحمه الله. (البناية: ۳/۳۸۹، مكتبه رشيديه).

لیکن اگر وحشی جانوروں کو تجارت کی نیت سے رکھا ہے تو ان کی مالیت اور قیمت پر زکوٰۃ واجب ہو گی ۔ اور اگر افزائش نسل کی نیت سے رکھا ہے مگر کوئی آتا ہے تو فروخت کر دیتا ہے تو زکوٰۃ واجب نہ ہو گی ۔
ملاحظہ ہو نصب الرایہ میں ہے:
حديث آخر: رواه عبد الرزاق في مصنفه أخبرنا ابن جريج أخبرني موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر رضي الله عنه أنه كان يقول: في كل مال يدار في عبيد، أو دواب، أو بز للتجارة، تدار الزكاة فيه كل عام. (نصب الراية: ۲/۳۷۸، ط: بيروت). وقال ابن حجر في الدراية (۱/۲٦۱): رواه عبد الرزاق بإسناد صحيح.

مزید ملاحظہ ہو: (
مجمع الأنهر: ۱/۲۰۷، التراث العربي، والهداية: ۱/۱۹۵، ط: المصباح، وتحفة الفقهاء: ۲/۲۷۱، دار الكتب العلمية).
فارم میں شکار کرنے اور اس کی خرید و فروخت سے متعلق تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو: (فتاوی دار العلوم زکریا، جلدِ ششم، ص: ۱۸٦ ۔ ۱۸۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.