غیر عالم کی کتابوں پر وجوبِ زکوٰۃ کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #472Urdu
Vol. 3زكوة، صوم، حج اور نكاح سے متعلق متفرق مسائل:باب (٦): نکاح کے متفرق مسائل

Question

میں عالم نہیں ہوں، لیکن کتابیں جمع کرنے کا بہت شوق ہے، گھر میں اردو، انگریزی میں کافی ساری کتابیں جمع کر رکھی ہیں، ایک دن ایک مولانا صاحب کو گھر بلایا اور کتب خانہ دکھایا، تو انہوں نے کتب خانہ دیکھ کر کہا کہ ان کتابوں کی زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے، تو اب سوال یہ ہے کہ کیا ان کتابوں پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ کتابوں پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے وجہ یہ ہے کہ کتابیں بحکمِ عروض ہیں اور عروض میں وجوبِ زکوٰۃ کے لیے تجارت کی نیت ضروری ہے اور وہ یہاں ندارد ہے ۔ نیز اس میں عالم اور غیر عالم کا کوئی فرق نہیں ہے اور جن کتبِ فقہ میں اہل علم کی قید مذکور ہے وہ قید غیر معتبر ہے، ہاں زکوٰۃ لینے کے بارے میں معتبر ہو گی کہ عالم ضروری کتابوں کی وجہ سے صاحبِ نصاب نہیں سمجھا جائے گا اور غیر عالم صاحبِ نصاب سمجھا جائے گا اور زکوٰۃ لینا ناجائز ہوگا ۔ قدوری کی شرح اللباب میں ہے، ملاحظہ فرمائیں:

وعلى هذا كتب العلم لا هلها وآلات المحترفين؛ لما قلنا، هداية، أقول: وكذا لغير أهلها إذا لم ينو بها التجارة؛ لأنها غير نامية، غير أن الأهل له أخذ الزكاة وإن ساوت نصاباً وغيره لا، كما في الدر. (اللباب: ۱/٦۸).
قال في فتح القدير: قوله وعلى هذا كتب العلم لا هلها، ليس بقيد معتبر المفهوم فإنها لو كانت لمن ليس من أهلها وهي تساوي نصباً لا تجب فيها الزكاة إلا أن يكون أعدها للتجارة وإنما يفترق الحال بين الأهل وغيرهم أن الأهل إذا كانوا محتاجين لما عندهم من الكتب للتدريس والحفظ والتصحيح لا يخرجون بها عن الفقر وإن ساوت نصباً فلهم أن يأخذوا الزكاة إلا أن يفضل عن حاجتهم نسخ تساوي نصاباً كان يكون من كل تصنيف نسختان وقيل بل ثلاث فإن النسختين يحتاج إليهما لتصحيح كل من الأخرى والمختار الأول بخلاف غير الأهل فإنهم يحرمون بها أخذ الزكاة إذا الحرمان تعلق بملك قدر نصاب غير محتاج إليه وإن لم يكن نامياً وإنما النماء يوجب عليه الزكاة. (فتح القدير: ۲/۱٦۳، دار الفكر). وللمزيد ينظر: (العناية شرح الهداية بهامش فتح القدير: ۲/۱۲۰، ودرر الحكام: ۱/۱۷۲).

عمدۃ الفقہ میں ہے:
کتابوں میں زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے ان کا اہل ہونے کی قید غیر معتبر ہے اس لیے کہ اگر چہ وہ شخص اہل علم میں سے نہ ہو اور کتابیں تجارت کے لیے نہ ہوں تب بھی ان میں زکوٰۃ واجب نہیں خواہ وہ بہت زیادہ یعنی بقدر نصاب یا اس سے بھی زیادہ ہوں اس لیے کہ ان میں بڑھنے کی شرط نہیں پائی جاتی ۔ (عمدۃ الفقہ: ۳/۲۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.