کتبِ تجارت میں زکوٰۃ کا حکم:
Question
تجارتی کتابوں میں زکوٰۃ لازم ہے یا نہیں؟
Answer
جو کتابیں تجارت کی غرض سے رکھی ہوں اور اس پر سال گزر جائے تو زکوٰۃ ادا کرنا لازم ادا کرنا لازم ہے ۔
ملاحظہ ہو الفقہ الحنفی و ادلتہ میں ہے:
روى البيهقي عن مجاهد في قوله تعالى: ﴿أنفقوا من طيبات ما كسبتم﴾. (البقرة: ۲٦۷). قال: التجارة، ومما أخرجنا لكم من الأرض، قال: النخل وروي أيضاً عن سمرة بن جندب رضي الله عنه: أما بعد فإن رسول الله ﷺ كان يأمرنا أن نخرج الصدقة من الذي نعد للبيع (سنن أبي داود: ۱/۲۲۵)
فالزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصاباً من الذهب، أو الفضة. (الفقه الحنفي وأدلته: ۱/۳۵۳، زكاة عروض التجارة، بيروت).
امداد الاحکام میں ہے:
کتبِ تجارت میں زکوٰۃ کا حکم:
جو کتابیں آپ کے پاس موجود ہیں، اور ان پر سال گزر گیا تو انہی ایک ہزار میں سے ۲۵ عدد کتابیں زکوٰۃ میں نکال دی جائیں، یا ۲۵ کتابوں کی قیمت دے دی جائے، جو آسان ہو اور انفع للفقراء ہو ۔ (امداد الاحکام: ۲/۳۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.