تجارتی عمارتوں میں زکوٰۃ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #71Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۱): وجوبِ زکوٰۃ کا بیان

Question

اگر کسی کے پاس بہت سی عمارتیں ہیں جن کی وہ تجارت کرتا ہے تو حولان الحول کے بعد وہ عمارتیں جن کو اس نے نہیں بیچا اس پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں تجارتی عمارتوں پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ واجب ہو گی ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:

وأما أموال التجارة فتقدير النصاب فيها بقيمتها من الدنانير والدراهم فلا شيء فيها ما لم تبلغ قيمتها مائتي درهم أو عشرين مثقالاً من ذهب فتجب فيها الزكاة وهذا قول عامة العلماء

لنا ما روي عن سمرة بن جندب رضي الله عنه أنه قال كان رسول الله ﷺ يأمرنا بإخراج الزكاة من الرقيق الذي نعده للبيع

وقال ﷺ "هاتوا ربع عشر أموالكم". (بدائع الصنائع: ۲/۲۰، فصل في أموال التجارة، سعيد).

ہدایہ میں ہے:

الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصاباً من الورق أو الذهب لقوله عليه السلام فيما يقومها فيؤدي من كل مائتي درهم خمسة دراهم ولأنها معدة للاستنماء بإعداد العبد فأشبه المعد بإعداد الشرع ويشترط نية التجارة ليثبت الإعداد. (الهداية: ۱/۱۹۵، فصل في العروض، شركة علمية).

کفایت المفتی میں ہے:
اگر مکانات کی تجارت کی جاتی ہے تو بحیثیت مال تجارت ہونے کے ان کی قیمت پر زکوٰۃ ہو گی ۔ (کفایت المفتی: ٤/۲٦٤) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
تجارت کی نیت سے خرید کردہ زمین اور مکان اور برائے فروخت تعمیر کردہ مکانات کی موجود ہ مالیت پر زکوٰۃ فرض ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۲۹۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.