تجارتی پلاٹ پر زکوٰۃ کا حکم:

1 min readFatwa Vol 3 #67Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۱): وجوبِ زکوٰۃ کا بیان

Question

تجارتی پلاٹ پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟

Answer

تجارتی پلاٹ چونکہ مالِ تجارت میں شامل ہے اس وجہ سے اس کی پوری مالیت پر زکوٰۃ فرض ہے ۔
ملاحظہ ہو الفقہ الحنفی و ادلتہ میں ہے:

روى البيهقي عن مجاهد في قوله تعالى: ﴿أنفقوا من طيبات ما كسبتم﴾. (البقرة: ۲٦۷). قال: التجارة، ومما أخرجنا لكم من الأرض، قال: النخل، وروي أيضاً عن سمرة بن جندب رضي الله عنه: أما بعد فإن رسول الله ﷺ كان يأمرنا أن نخرج الصدقة من الذي نعد للبيع (سنن أبي داود: ۱/۲۲۵)

فالزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصاباً من الذهب، أو الفضة. (الفقه الحنفي وأدلته: ۱/۳۵۳، زكاة عروض التجارة، بيروت).

احسن الفتاوی میں ہے:
تجارتی پلاٹ مالِ تجارت ہے، لہذا اس پر زکوٰۃ فرض ہے، جو چیز بھی بیچنے کی نیت سے خریدی جائے وہ مالِ تجارت میں داخل ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۲۹۵) ۔
ایضاح المسائل میں ہے:
تجارتی پلاٹ چونکہ مالِ تجارت ہے اس لئے اس کی پوری مالیت پر زکوٰۃ فرض ہے ۔ (ایضاح المسائل: ص۱۰٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.