گایوں پر زکوٰۃ کا حکم:
Question
لوگ گایوں کو پالتے ہیں اور ان کے لئے مخصوص فارم ہوتے ہیں تو ایسی گایوں پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟
Answer
اگر کسی نے گایوں کا فارم قائم کیا ہے اور اس کی افزائش کرتا ہے تو اس میں زکوٰۃ واجب ہو گی، فقہاء نے جانوروں کی زکوٰۃ کی جو تفصیلات بیان فرمائی ہے اس کے مطابق زکوٰۃ ادا کرے اور اگر خود گایوں کی افزائش نہیں کرتا بلکہ خرید و فروخت کرتا ہے تو قیمت پر زکوٰۃ واجب ہو گی ۔
ملاحظہ ہو الدر المختار میں ہے:
(نصاب البقر والجاموس) ولو متولداً من وحش وأهلية
. إلى (ثلاثون سائمة) غير مشتركة (وفيها تبيع) الخ.
شامی میں ہے:
(سائمة) فلو علوفة فلا زكاة فيها إلا إذا كانت للتجارة، فلا يعتبر فيها العدد بل القيمة. (شامي: ۲/۳۰٤).
احسن الفتاوی میں ہے:
جن مواشی کا غالب چارہ گھر میں ہو باہر چرنا کم ہو ان پر زکوٰۃ نہیں، البتہ تجارت کی نیت سے خریدے ہو تو ان کی قیمت پر زکوٰۃ فرض ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۲۷۲) ۔
فتاوی قاضی خان میں ہے:
الزكاة فرض على المخاطب إذا ملك نصاباً نامياً حولاً كاملاً والمال النامي نوعان السائمة ومال التجارة، أما السائمة فهي الراعية التي تكتفي بالرعي، يطلب منها العين وهو النسل واللبن، فإذا علفها في مصر أو غير مصر فهي علوفة وليست بسائمة. (فتاوى قاضي خان: ۱/۲٤۵).
مزید ملاحظہ ہو: کتاب الفتاوی: تیسرا حصہ ص۳٤٦، جانوروں کی زکوٰۃ، مکتبہ نعیمیہ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.