زکوٰۃ ادا کرتے وقت اخراجات منہا کرنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 3 #122Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۳): زکوٰۃ ادا کرنے کا بیان

Question

اگر کسی شخص نے کسی کا مکان بنانے کے لئے رقم بھیجی یا اس کی ضرورت کے لئے زکوٰۃ کی رقم سے کتابیں بھیجی، یا زکوٰۃ کی رقم غریبوں تک پہنچانے کے لئے کسی شخص کو بھیجا تو کرایہ کی رقم زکوٰۃ سے منہا کر سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں اولاً تو یہ کو شش کرنی چاہیے کہ اخراجات وغیرہ زکوٰۃ کے علاوہ سے ادا کریں، لیکن اگر کوئی صورت نہ بن س کے تو زکوٰۃ کی رقم سے ادا کرنے کی گنجائش ہونی چاہیے ۔

قال الله تعالى: ﴿إنما الصدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها

﴾ (التوبة: ٦۰).

کفایت المفتی میں ہے:
زکوٰۃ کی رقم وصول کر کے لانے والوں کو اس رقم میں سے اجرتِ عمل دینے کی گنجائش ہے خواہ وہ غنی ہوں ۔ (کفایت المفتی: ٤/۲۸٦) ۔
مولانا خالد سیف اللہ فرماتے ہیں:
جیسے عاملین زکوٰۃ و عشر فقراء کے حقوق کے تحفظ کے لئے اپنے آپ کو مشغول رکھتے ہیں، اسی طرح زکوٰۃ و عشر کے حساب و کتاب اور اس کی تقسیم وغیرہ کے لئے اور بھی عملہ مطلوب ہو سکتا ہے، عام طور سے فقہاء نے اس مسئلہ سے بحث نہیں کی ہے، لیکن علامہ قرطبی رحمه الله نے اس مسئلہ کو بھی تحریر فرمایا ہے:

الحادي عشرة: ودل قوله تعالى: ﴿والعاملين عليها﴾ على أن كل ما كان من فروض الكفايات كالساعي والكاتب والقسام والعاشر وغيرهم فالقائم به يجوز له أخذ الأجرة عليه. (الجامع لا حكام القرآن: ۸/۱۱۳، دار الكتب العلمية).

۔ غور کیا جائے تو عاملین میں اپنے وسیع معنی کے اعتبار سے صرف محصلین ہی داخل نہیں ہے، بلکہ زکوٰۃ کی جمع و تقسیم کے تمام کارکنان اس میں داخل ہیں ۔ (اسلام کا نظام عشر و زکوٰۃ: ۱۱۵) ۔
اسلامی فقہ میں ہے:
بہت سی جگہوں میں ریل، بس یا ہوائی جہاز سے جو سامان بھیجا جاتا ہے اس سواری کا کرایہ زکوٰۃ کی مد سے دیا جائے یا نہ دیا جائے؟ بعض علماء کی یہ رائے ہے کہ اس مد سے کرایہ نہ دیا جائے ۔ ۔ (۔ جیسا کہ مذکور ہے: فتاوی دار العلوم: ٦/۳۳۵ ۔ و فتاوی محمودیہ: ۹/٤۸۳ ۔ و فتاوی رحیمیہ: ۲/۱۰ ۔ و فتاوی فریدیہ: ۳/۳۹۷ ۔) مگر راقم الحروف کے نزدیک کرایہ کا پیسہ مد زکوٰۃ سے ادا کرنا جائز ادا کرنا جائز ہے ۔ اگر ہم کسی مزدور کو غریب کا مکان بنوانے کی غرض سے طلب کریں، یا ہم اس کو زکوٰۃ کا سامان پہنچانے کے لئے دیں اگر ہم اس کی مزدوری زکوٰۃ سے نہ دیں تو مکانات کی تعمیر نہ ہو سکے گی، اور نہ ان تک سامان پہنچ سکے گا، ۔ اور یہ تملیک کے خلاف اس لئے نہیں کہ سارے اخراجات کر کے وہ چیز ہم کسی مستحق کو دیں گے، اس لئے اس کی حیثیت کرایہ کی نہیں بلکہ قیمت کی ادائیگی کی ہے، اگر منی آرڈر اور بیمہ کے ذریعہ ہم اپنی زکوٰۃ دوسری جگہ بھیجیں تو منی آرڈر اور بیمہ کی فیس بھی اگر زکوٰۃ کے روپیہ سے ادا کی جائے تو یہ تملیک کے خلاف نہیں ہے کیوں کہ یہ سب اس غریب تک پیسہ پہنچانے کے لئے کیا جاتا ہے ۔ (اسلامی فقہ: ۱/٤۷۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.