عشر ادا کرتے وقت اخراجات منہا کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #247Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک شخص اپنی زمین کی پیداوار کا نصفِ عشر ادا کرتا ہے کیوں کہ زمین کی سیرابی ٹیوب ویل سے ہوتی ہے لیکن اس میں اخراجات منہا کرنا درست ہے یا نہیں؟ اس لیے کہ بعض مرتبہ اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں، مثلاً ۲۰ ہزار کی پیداوار میں ایک ہزار نصفِ عشر ہے لیکن ۲۰ ہزار پورے سال کی بجلی کا بل ہو جاتا ہے، تو اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

جو زمینیں عشری ہیں ان میں کل پیداوار میں عشر یا نصفِ عشر واجب ہو گا، اخراجات منہا نہیں کیے جائیں گے، اخراجات کو مدِ نظر رکھتے ہوے نصفِ عشر کا حکم لگایا ہے، لہٰذا دوبارہ منہا نہیں کیا جائے گا ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں منقول ہے:

ويجب نصفه في مسقى غرب أي دلو كبير ودالية أي دولاب لكثرة المؤنة

بلا رفع مؤن أي كلف الزرع وبلا إخراج البذر لتصريحهم بالعشر في كل الخارج. قوله بلا رفع مؤن أي يجب العشر في الأول ونصفه في الثاني بلا رفع أجرة العمال ونفقة البقر وكري الأنهار وأجرة الحافظ ونحو ذلك درر، قال في الفتح يعني لا يقال بعدم وجوب العشر في قدر الخارج الذي بمقابلة المؤنة بل يجب العشر في الكل لأنه عليه الصلاة والسلام، حكم بتفاوت الواجب لتفاوت المؤنة ولو رفعت المؤنة كان الواجب واحداً وهو العشر دائماً في الباقي، لأنه لم ينزل إلى نصفه إلا للمؤنة والباقي بعد رفع المؤنة لا مؤنة فيه. (فتاوى الشامي: ۲/۳۲۸، سعيد). (وكذا في فتح القدير: ۲/۲۵۰، دار الفكر).

فتاوی دار العلوم دیوبند میں مذکور ہے: جن اراضی میں عشر واجب ہے ان میں کل پیداوار کا عشر نکالنا واجب ہے، بدون وضع کرنے اخراجات کے،
كما في الدر المختار. (
فتاوی دار العلوم دیوبند: ٦ /۱۷۳، دار الاشاعت) ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے: عشر میں مزدور کی مزدوری اور دیگر اخراجات کا حساب نہیں ہوتا یعنی مزدوروں کی مزدوری کی وجہ سے عشر میں کمی نہ ہو گی ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ٦/۱۸۵، ط: دار الاشاعت) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (جدید فقہی مباحث: ۸/۳۲۵، و جدید فقہی مسائل: ۱/۲۳۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.