بعض مدارس میں تملیک کی بعض صورتیں رائج ہیں ان سے ادائیگی کا حکم:

4 min readFatwa Vol 3 #127Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب… (۳): زکوٰۃ ادا کرنے کا بیان

Question

بعض محتاط مدارس میں زکوٰۃ کی تملیک کا مندرجۂ ذیل نظام ہے:
نادار طلبہ کو زکوٰۃ کی رقم ٤۰۰ رینڈ دیتے ہیں پھر دوسرا ناظم اس کی رہائش، بجلی، تعلیم اور کھانے پینے کے لئے ۳۰۰ رینڈ لیتا ہے اور ۱۰۰ رینڈ طالبِ علم کے پاس رہتے ہیں یہ نظام بظاہر بہت دلکش اور پیارا ہے، لیکن بعض علماء اس پر مندرجۂ ذیل اشکالات کرتے ہیں:
(۱) اگر کوئی طالبِ علم غیر حاضر رہا، تو غیر حاضری کے ایام کا خرچہ نہیں لینا چاہیے، حالانکہ کٹی ہوئی رقم میں واپسی کا کوئی طریقہ مروج نہیں؟
(۲) طلبہ کو وظائف کے ملنے سے پہلے اگر وہ شخص مر جائے تو وہ رقم امانت ہونے کی وجہ سے ورثہ کو واپس کرنا چاہیے؟
(۳) وظائف کی تقسیم سے پہلے اگر حولانِ حول ہو جائے تو پھر زکوٰۃ واجب ہونا چاہیے ہونا چاہیے، کیوں کہ مالک کی ملکیت باقی ہے؟
(٤) نیز کھانے کا معاوضہ بیع ہے اور رہائش، بجلی وغیرہ کی سہولت اجارہ ہے ایک عقد میں بیع اور اجارہ کو جمع کرنا
"صفقة في صفقتين"
ہے جو ممنوع ہے؟

Answer

نادار طلبہ کو زکوٰۃ کی رقم دینا حقیقۃً تملیک ہے پھر جب طالبِ علم ۳۰۰ رینڈ کی فیس ادا کرتا ہے تو وہ تبرعِ مشروط کے ذیل میں آتا ہے یعنی اس تبرع کے بدلہ میں طالبِ علم کو کھانے پینے، رہائش وغیرہ کی سہولت کی شرط لگائی گئی، تبرعِ مشروط ہبہ بالعوض ہے اگر چند دن طالبِ علم غیر حاضر رہا تو اس کی رقم واپس کرنا ضروری نہیں، نیز اگر طالبِ علم نے پورے سال کی فیس جمع کرا دی اور درمیان سال میں چلا گیا تو اس میں بھی بقیہ سال کی فیس کی واپسی شرعاً لازم نہیں، کیوں کہ ہبہ بالعوض میں واہب موہوب کو واپس نہیں مانگ سکتا، جب کہ یہاں تو موہوب خرچ ہو چکا ہے یا مخلوط ہو چکا ہے جو استہلاک کہلاتا ہے ۔
تبرع مشروط جائز ہے ۔ ملاحظہ ہو مولانا ظفر احمد عثمانی رحمه الله تحریر فرماتے ہیں:
سوال: مدارس میں فیس داخلہ اور فیس ماہواری طلبہ سے لینا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: جائز ہے، کیوں کہ یہ اجرت نہیں بلکہ چندہ ہے اور چندہ میں شرط جائز ہے کیوں کہ اس سے جبر لازم نہیں آتا جس کو شرط منظور نہیں ہو گی اس کو عدم داخلہ کا اختیار ہو گا،
ودليله: أنه ﷺ قال لمن أضافه وعائشة رضي الله تعالى عنها قال: لا، قال: فلا إذن حتى قال في الثالثة: وعائشة رضي الله تعالى عنها قال: نعم. مسلم شريف: ۲/۱۷٦.
(امداد الاحکام: ۳/٦۰٦، کتاب الاجارۃ) ۔
(۲) چونکہ مہتمم مدرسہ یا ناظم عامل کے بعض احکام میں عامل کے حکم میں ہے، لہذا اگر اس شخص کا انتقال ہو جائے اور اس کا مال الگ رکھا ہو تو پھر نادار طلبہ کی طرف سے مہتمم یا ناظم کے قبول کرنے کے بعد وہ رقم واپس نہیں ہو گی، جب کہ اکثر تو رقم مخلوط ہونے کی صورت میں معلوم ہی نہیں کہ کس کی رقم خرچ ہوئی ۔
(۳) وظائف کی تقسیم سے پہلے اگر حولانِ حول ہو جائے تو زکوٰۃ واجب نہیں کیوں کہ عامل کے پاس زکوٰۃ کی رقم پڑی رہنے سے زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی، کیوں کہ مہتمم یا ناظم طلبہ کے وکیل ہیں ۔
نظام الفتاوی میں حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری کی تحریر نقل فرمائی ہے کہ عاجز کے نزدیک مدارس کا روپیہ وقف نہیں، مگر اہل مدرسہ مثل عمال بیت المال کے معطین اور آخذین ہر دو کی طرف سے وکلاء ہیں لہذا نہ اس میں زکوٰۃ واجب ہو گی اور نہ معطین واپس لے سکتے ہیں ۔ (نظام الفتاوی: ۱/۱۱٦) ۔
(٤) اس معاملہ میں بیع اور اجارہ بھی جمع نہیں بلکہ مدرسہ کی سہولیات کے عوض میں فیس ایک تبرع اور ہبہ ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.