مدارسِ عربیہ میں آمدہ رقوم کا شرعی حکم:

4 min readFatwa Vol 3 #147Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب (٤): مصارفِ زكوة كا بيان

Question

مدارسِ عربیہ میں صدقاتِ واجبہ اور غیر واجبہ یعنی عطیات وغیرہ کی رقم جمع ہوتی ہے اس کا کیا حکم ہے؟ آیا وہ مالک کی ملکیت سے خارج ہوتی ہے یا نہیں؟ نیز سال گزرنے کے بعد اس پر زکوٰۃ واجب ہو گی یا نہیں؟ نیز مالکان کی زکوٰۃ کب ادا ہو گی خرچ کرنے کے بعد یا منتظمین کے قبضہ کرنے کے بعد؟

Answer

مدارس میں عموماً تین قسم کی رقوم داخل ہوتی ہیں:
(۱) رقومِ عطیات، ہدایا و صدقاتِ نافلہ وغیرہ یعنی وہ رقوم جو واجب التملیک نہیں ہوتیں ۔
(۲) رقومِ زکوٰۃ و نذرو کفارات وغیرہ یعنی وہ رقوم جو واجب التملیک ہوتی ہیں ۔
(۳) وہ رقم جس کو دینے والا کسی خاص کام کے لیے متعین کر کے دیتا ہے، مثلاً فلاں کمرہ، یا فلاں فرش وغیرہ ۔
ہر ایک کا حکم ملاحظہ فرمائیں:
(۱) عطیات یعنی غیر واجب التملیک رقوم کے بارے میں بھی مہتممینِ مدارس اور ان کے نواب وکیل و نائب ہوتے ہیں ۔ لیکن اربابِ حل و عقد کے مشورہ سے خرچ کا جو ضابطہ حدودِ شرع میں رہتے ہوے مقرر و متعین ہوتا ہے صرف اس ضابطہ کے ماتحت خرچ کرنا ضروری رہتا ہے، اور اگر اربابِ حل و عقد نہ ہوں یا ہوں مگر کسی خرچ کے بارے میں کوئی واضح ضابطہ ملے تو ادارہ کے سابق اہلِ علم و دیانت و ذمہ داروں کا معمول دیکھا جائے گا، اور اس کی اتباع کی جائے گی، مہتمم یا عملہ مدارس خود رائے نہیں کر سکتے ہیں ۔
(۲) رقوم زکوٰۃ وغیرہ جو واجب التملیک ہوتی ہیں، ان رقوم میں مہتممینِ مدارس معطی کے من وجہ وکیل ہوتے ہیں اس لیے قبضہ مہتمم من کل الوجوہ قبضہ مستحق نہیں ہوگا ۔ اور اسی وجہ سے طلباء یا مستحق زکوٰۃ کو تملیکاً دینا ضروری ہوگا، بغیر تملیک کے دوسرے مصرف میں خرچ کرنا درست و جائز نہیں ہے، نیز ان رقوم کو غیر واجبۃ التملیک رقوم سے مستقل طور پر الگ رکھنا چاہیے، نیز ان رقوم میں یہ لوگ طلباء کے بھی وکیل و نائب ہوتے ہیں، لہذا ان رقوم کو دینے کے بعد معطین واپس نہیں لے سکتے اور نہ ان رقوم پر حولانِ حول کے بعد زکوٰۃ لازم ہو گی، اور نہ ہی مقدارِ کثیر حاصل ہونے کے بعد مزید حاصل کرنے کو ناجائز کہہ سکتے ہیں، اور نہ کوئی مستحق غنی قرار پائے گا، پھر معطین بھی مختلف ہوتے ہیں، بعض تو طلباء پر خرچ کرنے کی صراحت کرتے ہیں اور دیگر بعض بغیر صراحت کے صرف مدرسہ کے لیے دیتے ہیں، تو پہلی صورت میں تملیکِ طلباء ملحوظ رکھنا ضروری ہوگا، اور دوسری صورت میں مدرسہ کے کسی بھی مستحقِ زکوٰۃ سے بلا تکلف تملیک کرا لینا کافی ہوگا ۔
(۳) یعنی وہ رقوم کہ دینے والا کسی خاص کام کے لیے نامزد کر دے اس کا حکم یہ ہے کہ اس میں مہتمم مدارس محض معطی کے وکیل و نائب ہوتے ہیں، لہذا اس قسم کی رقوم کو خلط و استہلاک سے بچانے کے لیے مدارس میں بالکل الگ الگ رکھنا اور ہدایت و منشا معطی کے موافق خرچ کرنا لازم رہتا ہے ۔ (ملخص از نظام الفتاوی: ٤٤٦ ۔ ٤۵۰، اصلاحی کتب خانہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.