مدارس کے سفراء عاملین کے حکم میں ہیں:
Question
مدارس کے سفراء عاملین کے حکم میں ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں راجح قول کے مطابق مدارس کے سفراء اور محصلین چندہ عاملین زکوٰۃ کے حکم کے ما تحت داخل ہیں ۔
ملاحظہ ہو جواہر الفتاوی میں ہے:
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب نور اللہ مرقدہ کی تحقیق اولاً یہ تھی کہ مہتممین مدارس عاملین صدقہ کے حکم میں نہیں بلکہ معطیان زکوٰۃ کے وکیل ہوتے ہیں پھر بعد میں حضرت گنگوہی رحمه الله، حضرت تھانوی رحمه الله اور حضرت سہارنپوری رحمه الله کی تحقیق کی بنا پر حضرت مفتی صاحب اپنی اول تحقیق سے رجوع فرما کر اس کے قائل ہوے کہ آج کل کے مہتممین مدرسہ اور ان کے مقرر کردہ چندہ وصول کرنے والے عاملین صدقہ کے حکم میں داخل ہو کر فقراء کے وکیل ہیں ۔ (جواہر الفتاوی: جلد اول ص ۷٤، اسلامی کتب خانہ، کراچی) ۔
جدید فقہی مباحث میں ہے:
مدارس کے سفراء اور محصلین چندہ راجح قول کے مطابق عاملین زکوٰۃ کے حکم کے ماتحت داخل ہیں اور حضرت مفتی محمد کفایت اللہ صاحب رحمه الله کی تو شروع ہی سے یہی رائے ہے کہ سفراء و محصلین عاملین زکوٰۃ کے حکم میں داخل ہیں اور حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله نے امداد المفتین اور معارف القرآن میں اور حضرت مولانا تھانوی رحمه الله نے امداد الفتاوی میں ابتداء ً اگر چہ سفراء و محصلین کو عاملین کے حکم میں داخل نہیں مانا تھا لیکن ان حضرات کی رائے آخر میں بدل گئی، تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، جواہر الفقہ، جلد چہارم، فتاوی خلیلیہ، جلد اول، امداد الفتاوی جلد ششم ۔ (جدید فقہی مباحث: ۷/۵۸٤، ادارۃ القرآن) ۔
مولانا خالد سیف اللہ فرماتے ہیں:
جہاں نظامِ شرعی موجود نہ ہو، وہاں دینی ادارے اور درس گاہیں زکوٰۃ کے اجتماعی طور پر اکٹھا کرنے اور مستحقین تک پہنچانے کا نظم کر سکتے ہیں اس لیے کہ دینی مدارس کے طلبہ بھی زکوٰۃ کا بہترین مصرف ہیں، وہاں ان اداروں کی طرف سے وصول زکوٰۃ کا کام کرنے والے جزوی طور پر عاملین ہی کے حکم میں ہیں کہ گو وہ امیر المسلمین کی طرف سے اس کام پر مامور نہیں ہیں، لیکن وصولی زکوٰۃ کا حق امیر کو تفویض کرنے سے شریعت کا جو اصل مقصود ہے یعنی اجتماعی طور پر زکوٰۃ کی وصولی و تقسیم کا نظم کرنا وہ اس طرح پورا ہو جاتا ہے اور اصل اعتبار مقاصد ہی کا ہے، "
الأمور بمقاصدها"
۔ (اسلام کا نظامِ عشر و زکوٰۃ: ص ۱۱۷، عاملین اور موجود ہ محصلین) ۔
حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
زکوٰۃ کی رقم وصول کر کے لانے والوں کو اس رقم میں سے اجرت دینے کی گنجائش ہے خواہ وہ غنی ہوں، مگر کسی حال میں ان کی وصول کی ہوئی رقم کے نصف سے زیادہ نہیں دی جائے گی، کسی مستحق زکوٰۃ کو زکوٰۃ کی رقم کسی عمل کے معاوضہ میں (سوائے تحصیل و جمع زکوٰۃ کے) نہیں دی جا سکتی کیوں کہ زکوٰۃ کی ادائے گی میں تملیک بلا عوض شرط ہے ملازمین مد تعلیم و تبلیغ کو تنخواہ بطور عقد اجارہ دی جاتی ہے جو تملیک بلا عوض نہیں ہے، البتہ اگر ان کو بطور وظیفہ ماہواری رقم دی جائے اور مستاجر کی حیثیت سے ان کے عمل کی جانچ نہ کی جائے اور اجیر کی طرح ان سے مواخذت نہ ہوں تو پھر ان کو زکوٰۃ میں سے ماہواری وظیفہ دینا جائز ہوگا ۔ (کفایت المفتی: ٤/۲۸٦، مصارفِ زکوٰۃ، دار الاشاعت) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: جدید فقہی مباحث: ٦/۳۳۵، ادارۃ القرآن ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.