مصارفِ زکوٰۃ اور مصارفِ ربوا میں فرق:

2 min readFatwa Vol 3 #154Urdu
Vol. 3كتاب الزكاةباب (٤): مصارفِ زكوة كا بيان

Question

مصارفِ زکوٰۃ اور مصارفِ ربوا میں فرق ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو برائے مہربانی مطلع فرمائیں؟

Answer

مصارفِ زکوٰۃ اور مصارفِ ربوا محتاج اور مساکین لوگ ہیں، البتہ فرق یہ ہے کہ زکوٰۃ کی رقم غیر مسلم فقیر کو نہیں دی جا سکتی، اور ربوا کی رقم غیر مسلم فقیر کو دے سکتے ہیں ۔
ملاحظہ ہو قرآن کریم میں ہے:

﴿إنما الصدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها

﴾. الآية.

در مختار میں ہے:

ولا تدفع إلى ذمي لحديث معاذ رضي الله عنه، وجاز دفع غيرها وغير العشر والخراج إليه أي الذمي ولو واجباً كنذر وكفارة وفطرة، خلافاً للثاني، وبقوله يفتي، حاوي القدسي، وفي الشامي: قوله "وبقوله يفتي" الذي في حاشية الخير الرملي عن الحاوي: وبقوله نأخذ، قلت: لكن كلام صاحب الهداية يفيد ترجيح قولهما. وعليه المتون. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۲۵۱، سعيد).

شامی میں ہے:

ويردونها على أربابها إن عرفوهم وإلا تصدقوا بها، لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه. (شامي: ٦/۳۸۵، سعيد).

معارف السنن میں ہے:

قال شيخنا: ويستفاد من كتب فقهاؤنا كالهداية وغيرها أن من ملك بملك خبيث ولم يمكنه الرد إلى المالك، فسبيله التصدق. (معارف السنن: ۱/۳٤، سعيد).

فتاوی رحیمیہ میں ہے:
سود کی رقم حاجت مند کو دے دی جائے خود استعمال نہ کرے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۲/۱۹۲) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
سود کی رقم محتاج غربا کو دے دے ثواب کی نیت نہ کرے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/۳۸۳، مبوب و مرتب) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
یہ رقم مسکین محتاج کو دی جا سکتی ہے اور وہ اپنے کام میں لے سکتا ہے غریب مسلمان کو فائدہ پہنچانا چاہیے وہ بہ نسبت غیر مسلم کے زیادہ حقدار ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ٦/۲۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.