ناک میں دوا ڈالنے سے روزہ کا حکم:
Question
اگر کسی شخص نے روزہ کی حالت میں ناک میں دوا ڈالی تو روزہ فاسد ہوا یا نہیں؟
Answer
روزہ کی حالت میں ناک میں دوا ڈالنے سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے، اور قضا واجب ہوتی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی ولوالجیہ میں ہے:
أما السعوط في الأنف والإقطار في الأذن: إن كان دهناً أو ما يشبهه يفسد صومه لأنه وصل إلى جوف الرأس ما هو مصلح للبدن فكان في معني الأكل. (الفتاوى الولوالجية: ۱/۲۲۰، بيروت).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
ومن احتقن أو استعط أو أقطر في أذنه دهناً أفطر ولا كفارة عليه هكذا في الهداية. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۰٤، الباب الرابع فيما يفسد الصوم وما لا يفسد، ومراقي الفلاح: ص ۲٤۵، باب ما يفسد الصوم من غير كفارة، بيروت).
ایضاح المسائل میں ہے:
ناک میں دوا ڈالنے سے اور پانی پہنچانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اسی طرح حلق میں پہنچنے سے بھی روزہ فاسد ہو جاتا ہے، لہذا غسل جنابت میں غرغرہ اور استنشاق میں مبالغہ نہیں کرنا چاہیے ۔ فتاوی رحیمیہ: ۵/۱۹۸، فتاوی دار العلوم: ٦/٤۱٦، در مختار کراچی: ۲/٤۰۲، جواہر الفقہ: ۱/۳۷۸ ۔ (ایضاح المسائل: ص ۸۵، مسائل روزہ، نعیمیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.