حضور ﷺ کو آیاتِ متشابہات کا علم:

5 min readFatwa Vol 1 #109Urdu
Vol. 1كتاب التفسير والتجويدآیاتِ قرآنی کی تفسیر و تشریح اور تجوید سے متعلق مسائل

Question

متشابہات
حٰمٓ
وغیرہ کے معنی رسول اللہ ﷺ کو معلوم تھے یا نہیں؟ اور اس کے نزول کے کیا فوائد ہیں؟

Answer

وفي الجامع الأحكام للقرطبي:
اختلف أهل التأويل في الحروف التي في أوائل السور فقال عامر الشعبي وسفيان الثوري وجماعة من المحدثين: هي سر الله في القرآن، ولله في كل كتاب من كتبه سر، فهي من المتشابه الذي انفرد الله تعالى بعلمه. (الجامع الأحكام ۱ /۱۰۸)
وأيضا قال القرطبي في تفسيره:
وروي عن محمد بن علي الترمذي رحمه الله أنه قال: إن الله تعالى أودع جميع ما في تلك السورة من الأحكام والقصص في الحروف التي ذكرها في أول السورة، ولا يعرف ذلك إلا نبي أو ولي. ثم بين ذلك في جميع السورة ليفقه الناس. (القرطبي ۱/۱۱۰)
روح المعاني
میں ہے
:
فلا يعرفه بعد رسول الله ﷺ إلا الأولياء الورثة فهم يعرفونه من تلك الحضرة وقد تنطق لهم الحروف عما فيها كما كانت تنطق لمن سبح بكفه الحصى وكلمه الضب والظبي ﷺ كما صح ذلك من رواية أجدادنا أهل البيت رضي الله عنه، بل متى جنى العبد ثمرة شجرة قرب النوافل علمها وغيرها بعلم الله تعالى الذي لا يعزب عن علمه مثقال ذرة في الأرض ولا في السماء. (روح المعاني ۱/۱۰۰)
۔
مفتی محمد شفیع صاحب لکھتے ہیں:
جمہور صحابہ و تابعین اور علماء امت کے نزدیک راجح یہ ہے کہ یہ حروف رموز اور اسرار ہیں جس کا علم سوائے خدا تعالی کے کسی کو نہیں دیا گیا، اور ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اس کا علم بطور ایک راز کے دیا گیا ہو، جس کی تبلیغ امت کے لیے روک دی گئی ہو، اسی لیے آنحضور ﷺ سے ان حروف کی تفسیر و تشریح میں کچھ منقول نہیں ۔ (معارف القرآن
۱
/
۱۰۷
) ۔
مولانا ادریس صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
خلفاء راشدین اور جمہور صحابہ رضي اللہ عنہ اور تابعین رحمہ اللہ کے نزدیک یہ حروف متشابہات میں سے ہیں اللہ تعالی کے سوا کسی کو ان کی مراد معلوم نہیں ۔
كما قال الله تعالى وما يعلم تأويله إلا الله
۔ (معارف القرآن:
۱
/
۳۸
) ۔
آگے مولانا ادریس صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
ظاہر شریعت کے اعتبار سے متشابہات اور خداوند ذو الجلال کے مخفی اسرار ہیں جن کے معانی سے عام طور پر لوگوں کو اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ا ن میں اس کی استعداد ہے، یہ حضرات مفسرین و محدثین (بکسر الدال) کا مذہب ہے، اور حضرات محدثین (بفتح الدال) یعنی مخصوص بندوں کو حروف مقطعات کے معانی اور اسرار سے بذریعہ الہام کے مطلع فرما دیتے ہیں، حقیقی نزاع نہیں ہے محض لفظی نزاع ہے، محدثین جو علم اور ادراک کی نفی کرتے ہیں وہ عوام کے اعتبار سے ہے اور اس نفی سے بھی علم یقین کی نفی مراد ہے، علم ظنی اور وجدانی کی نفی مراد نہیں اور محدثین (بفتح الدال) جو حروف مقطعات کے معانی کے علم اور ادراک کے قائل ہیں وہ خواص کے لیے قائل ہیں نہ کہ عوام کے لیے اور پھر خواص کو بھی جو علم ہوتا ہے وہ ظنی اور وجدانی ہوتا ہے قطعی اور یقینی نہیں ہوتا اور عجب نہیں کہ حروف مقطعات عالمِ غیب میں ذو الوجوہ ہوں کسی پر کوئی معنی اور کسی پر کوئی معنی منکشف ہوں ۔ (معارف القرآن:
۱
/
٤۰
) ۔
مندرجہ بالا مفسرین کے رجحان سے معلوم ہوتا ہے کہ متشابہات
حٰمٓ
وغیرہ کے معنی حضور
ﷺ
کو معلوم ہو سکتے ہیں لیکن ظن کے درجہ میں ہے ۔
متشابہات کے نزول کے فوائد:
(۱) لوگ ان پر ایمان لائیں اور ان کے من جانب اللہ ہونے کا یقین کریں ۔
(۲) امتحان العقول کہ عقل کا گھوڑا جو ہر جگہ دوڑنا چاہتا ہے وہ یہاں رک جائے ۔
(۳) خالق اور مخلوق کے علم میں فرق ظاہر کرنے کے لیے ۔
(٤) انسان کی عاجزی کو ظاہر کرنے کے لیے ۔ (ملخص از علوم القرآن ل مولانا شمس الحق افغانی) ۔
مولانا ادریس صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
حروف مقطعات کے نازل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ لوگ ان پر ایمان لائیں اور ان کے من جانب اللہ ہونے کا یقین کریں تاکہ بندوں کا کمالِ انقیاد ظاہر ہو ۔ (معارف القرآن:
۱
/
٤۰
) ۔

وقال القرطبي في تفسيره:
قال أبو بكر: فهذا يوضح أن حروفا من القرآن سترت معانيها عن جميع العالم اختباراً من الله عزوجل وامتحاناً، فمن آمن بها أثيب وسعد ومن كفر وشك أثم وبعد. (تفسير القرطبي: ۱/ ۱۰۹).

خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ان حروف کے معانی کا علم ہونا کسی نص سے ثابت نہیں ۔ لہذا اس کا یقینی علم اللہ تعالی کے ساتھ مخصوص ہے ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.