﴿اصبروا وصابروا ورابطوا﴾ کی صحیح تفسیر:

4 min readFatwa Vol 1 #101Urdu
Vol. 1كتاب التفسير والتجويدآیاتِ قرآنی کی تفسیر و تشریح اور تجوید سے متعلق مسائل

Question

بعض حضرات کا کہنا ہے کہ جب ہم حلقے میں بیٹھتے ہیں تو ہم رابطہ بناتے ہیں اور اس آیت سے دلیل پکڑتے ہیں ۔
﴿اصبروا وصابروا ورابطوا﴾ الخ.
سورۂ آل عمران کی آخری آیت ہے ۔
وہ حضرات کہتے ہیں کہ رابطہ کے معنی ہیں اللہ سے تعلق پیدا کرنا لیکن بواسطہ اولیاء لیکن میں نے پڑھا ہے کہ رابطہ کے معنی ہیں اسلامی ممالک کے حدود کی حفاظت کرنا یا ایک نماز کے بعد دوسری کا انتظار کرنا ۔
وہ حضرات کہتے ہیں کہ یہ ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے اور ہر ایک کا درجہ نہیں ہے کہ وہ اللہ عزوجل سے بلا واسطہ بغیر کسی وسیلہ کے اللہ سے تعلق قائم کر لے اللہ سے رابطہ پیدا کرنے کے لیے ایک خاص درجہ تک پہنچنا ضروری ہے اور یہ درجہ بہت مشکل ہے لہذا بلا واسطہ اللہ سے تعلق نہیں ہو سکتا ہے اس وجہ سے وہ کہتے ہیں کہ اولیاء کو وسیلہ بنانا ضروری ہے ۔

Answer

(۱
) ﴿يا أيها الذين آمنوا اصبروا وصابروا ورابطوا﴾ الخ.
قال أبو سلمة بن عبد الرحمن هذه الآية في انتظار الصلاة بعد الصلاة ولم يكن في زمان رسول الله غزو يرابط فيه رواه الحاكم في صحيحه واحتج أبو سلمة بقوله عليه السلام: ألا أدلكم على ما يمحوا الله به الخطايا ويرفع به الدرجات انتظار الصلاة بعد الصلاة فذلكم الرباط رواه مالك وقال ابن عطية: والقول الصحيح هو أن الرباط هو الملازمة في سبيل الله أصلها من ربط الخيل، قال رسول الله ﷺ: رباط يوم وليلة خير عند الله من الدنيا وما فيها. (تفسير القرطبي: ٤/۲۰٦).

(۲)
وقال محمد بن جرير الطبري رحمه الله: قال بعضهم معنى ذلك اصبروا على دينكم وصابروا الكفار ورابطوا الكفار أي رابطوا في سبيل الله وقال الآخرون معنى ذلك رابطوا على الصلوات أي انتظروها واحدة بعد واحدة. (جامع القرآن للطبري: ٤/ ۱٤۸).

علامہ سیوطی رحمہ اللہ اور سلیمان بن عمر مشہور بہ جمل نے یہی معنی بیان کیے ہیں اور مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ نے یہی لکھا ہے کہ رباط کے معنی یا تو ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار کرنے کے ہیں یا اللہ کے راستہ میں اسلامی حدود کی حفاظت کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ (معارف القرآن:
۲
/
۲۷٤
) ۔
لہذا جو معنی بعض لوگ بیان کرتے ہیں کہ رباط کے معنی ہیں اللہ سے بواسطہ اولیاء تعلق قائم کرنا ، یہ معنی صحیح نہیں کیونکہ سلف صالحین سے یہ معنی منقول نہیں ہے اور آیت سے مستفاد بھی نہیں ہے ۔
اور یہ کہنا کہ بلا واسطہ اولیاء اللہ عزوجل سے تعلق قائم کرنا عام لوگوں کے لیے ممکن نہیں ہے، یہ بات صحیح ہے لیکن یہ تعلق انبیا علیہم السلام، علماء، صلحاء، اولیاء، مجتہدین وغیرہ سب کے ذریعہ پیدا ہو سکتا ہے ۔ ان حضرات نے عربی لفظ رابطہ کا مطلب اردو کا رابطہ و تعلق سمجھ لیا اردو والے تعلق کو عربی میں صداقت، محبت، رفاقت وغیرہ کہتے ہیں دوست اور ساتھی کو رفیق، صدیق زمیل مصاحب مج اور وغیرہ کہتے ہیں مرابط نہیں کہتے ربط کے معنی باندھنے کے ہیں، دوستی کے نہیں، اردو میں کہتے ہیں کہ زید کا تعلق مدرسہ زکریا سے ضابطہ کا ہے اور عمر کا تعلق مدرسہ زکریا سے رابطہ کا ہے ضابطہ کا نہیں کسی لفظ کا ترجمہ کرتے وقت اس زبان کے محاورات کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.