﴿ولقد آتيناك سبعاً من المثاني الخ﴾ کا صحیح مصداق:
Question
﴿ولقد أتيناك سبعا من المثاني والقرآن العظيم﴾
کے اچھی اور معقول تاویلات کیا ہیں؟
Answer
سبع مثانی کے مصداق میں اختلاف ہے ۔ صحیح اور راجح یہی ہے کے اس سے مراد سورۃ فاتحہ کی سات آیتیں ہیں جو ہر نماز کی ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں اور جن کو بطور وظیفہ کے بار بار پڑھا جا تا ہے ۔
حدیث میں ہے کہ حق تعالی نے تورات، انجیل، زبور، قرآن کسی کتاب میں اس کا مثل نازل نہیں فرمایا ۔
در منثور میں ہے:
وأخرج الدارمي والترمذي وحسنه والنسائي وعبد الله بن أحمد بن حنبل في زوائد المسند وابن الضريس في فضائل القرآن وابن جرير وابن خزيمة والحاكم وصححه من طريق العلاء عن أبيه عن أبي هريرة عن أبي بن كعب قال: قال رسول الله ﷺ "ما أنزل الله في التوراة، ولا في الإنجيل، ولا في الزبور، ولا في الفرقان، مثل أم القرآن. وهي السبع المثاني والقرآن العظيم الذي أوتيت، وهي مقسومة بيني وبين عبدي، ولعبدي ما سأل". (الدر المنثور: ۱/ ۱۳).
نیز احادیث صحیحہ میں تصریح ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سورۃ فاتحہ کو فرمایا کہ یہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھ کو دی گئی ۔ در منثور میں ہے:
وأخرج أحمد والبخاري والدارمي وأبو داود والنسائي وابن جرير وابن حبان وابن مردويه والبيهقي عن أبي سعيد بن المعلى قال: كنت أصلي فدعاني النبي ﷺ فلم أجبه فقال: ألم يقل الله ﴿استجيبوا ﷲ وللرسول إذا دعاكم﴾ ثم قال: لأعلمنك أعظم سورة في القرآن قبل أن تخرج من المسجد، فأخذ بيدي فلما أردنا أن نخرج قلت: يا رسول الله إنك قلت لأعلمنك سورة في القرآن قال: ﴿الحمد ﷲ رب العالمين﴾ هي السبع المثاني والقرآن العظيم الذي أوتيته". (الدر المنثور ۱/ ۱۳)
اس چھوٹی سی سورت کو قرآن عظیم فرمانا درجے کے اعتبار سے ہے اس سورت کو ام القرآن بھی اسی لحاظ سے کہتے ہیں کہ گویا یہ ایک خلاصہ اور متن ہے جس کی تفصیل و شرح پورے قرآن کو سمجھنا چاہیے قرآن کے تمام علوم و مطالب کا اجمالی نقشہ تنہا اس سورت میں موجود ہے ۔
یوں مثانی کا لفظ بعض حیثیات سے پورے قرآن پر بھی اطلاق کیا گیا ہے:
﴿الله نزل أحسن الحديث كتاباً متشابهاً مثاني﴾.
اور ممکن ہے دوسری سورتوں کو مختلف وجوہ سے مثانی کہ دیا جائے، مگر اس جگہ سبع مثانی اور قرآن عظیم کا مصداق یہی سورت فاتحہ ہے ۔ (
تفسير عثماني ص ۳۵۳، سورة الحجر).
خلاصہ یہ ہے کہ اکثر حضرات نے سبع مثانی سے سورۃ فاتحہ مراد لی ہے البتہ دیگر اقوال بھی مفسرین و محدثین نے ذکر کیے ہیں ۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: "زاد المسیر لابن الجوزی:
٤
/
٤۱۳
"
.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.