سورۃ الفلق مکی ہے یا مدنی؟
Question
نبی عليہ السلام پر جادو کیا گیا تھا اور اسی موقع پر سورۃ الفلق کا شانِ نزول بتایا جاتا ہے حالانکہ جادو مدنی زندگی میں کیا گیا تھا اور سورۃ فلق مکی زندگی میں نازل ہو ئی جادو کے واقعہ سے ۱۳ سال پہلے یہ کیسے ممکن ہے؟
Answer
سورۃ الفلق کے مکی یا مدنی ہونے کے بارے میں مفسرین نے مختلف اقوال بیان کیے ہیں ۔
علامہ ابن الجوزی زاد المسیر میں تحریر فرماتے ہیں:
وفيها قولان: أحدهما مدنية رواه أبو صالح عن ابن عباس، وبه قال قتادة في آخرين، والثاني: مكية رواه كريب عن ابن عباس وبه قال الحسن، وعطاء، وعكرمة، وجابر، والأول أصح، ويدل عليه أن رسول الله ﷺ سحر وهو مع عائشة، فنزلت عليه المعوذتان. (زاد المسير: ۹/۲۷۰).
روح المعانی میں ہے:
مكية في قول الحسن وعطاء وعكرمة وجابر ورواية كريب عن ابن عباس مدنية في قول ابن عباس في رواية أبي صالح وقتادة وجماعة وهو الصحيح لأن سبب نزولها سحر اليهود وإنما سحروه ﷺ بالمدينة كما جاء في الصحاح فلا يلتفت لمن صحح كونها مكية. (روح المعاني: ۱۵/۳۲۱).
تفسیر کبیر میں ہے:
ذكروا في سبب نزول هذه السورة وجوهاً (أحدها) روي أن جبرئيل عليه السلام أتاه وقال: إن عفريتاً من الجن يكيدك، فقال: إذا أويت إلى فراشك قل أعوذ برب السورتين. (وثانيها) إن الله تعالى أنزلهما عليه ليكونا رقية من العين، وعن سعيد بن المسيب أن قريشاً قالوا: تعالوا نتجوع فنعين محمداً ففعلوه، ثم أتوه وقالوا: ما أشد عضدك وأقوى ظهرك وأنضر وجهك فأنزل الله تعالى المعوذتين (وثالثها) وهو قول جمهور المفسرين إن لبيد بن أعصم اليهودي سحر النبي ﷺ في إحدى عشرة عقدة وفي وتر دسه في بئر يقال له ذروان فمرض رسول الله ﷺ، واشتد عليه ذلك ثلاث ليال فنزلت المعوذتان لذلك إلى آخره. (تفسير كبير: ج ۱۱/ ۱۷۷).
درج کردہ عبارات سے معلوم ہو گیا کہ اکثر مفسرین کے نزدیک مدنی ہے چنانچہ روایات کثیرہ سے یہ بات ثابت ہے کہ سحر والے واقعہ میں نازل ہو ئی اور ظاہر ہے کہ یہ واقعہ مدنیہ طیبہ میں پیش آ یا اور اگر بالفرض مکی ہو تو بھی اس سے سحر والے واقعہ کی صحت میں کوئی فرق نہیں پڑتا وہ اس طرح کہ یہ سورتیں مکہ میں نازل ہو ئی ہو ں اور سحر میں مبتلا ہو نے کے موقع پر جبرئیل امیں نے ان سورتوں کو بطور علاج بتلایا ہو اور اسی کو بعض حضرات نے نزول کہا ہو ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.