ترتیبِ قرآنی کو ترتیبِ نزولی کے خلاف رکھنے کی حکمت:
Question
ترتیبِ قرآنی کو ترتیبِ نزولی کے خلاف رکھنے میں کیا حکمت ہے؟
Answer
ترتیبِ نزولی میں مکی زندگی میں مکی سورتیں پہلے نازل کی گئیں اس لیے کہ مکہ مکرمہ میں ان کی ضرورت مقدم تھی ۔
مکہ مکرمہ میں عقائد کی اصلاح، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صداقت، قرآنِ کریم کی حقانیت، اممِ ماضیہ کی ہلاکت سے عبرت حاصل کرنا ، کفر و شرک کی مذمت، جنت کی بشارت، جہنم کا خوفناک منظر، کفر و شرک کے اقسام، قیامت کا خوف، عبادت کی اہمیت، مسلمانوں کو صبر کی تلقین وغیرہ کی ضرورت تھی اس لیے مکی سورتیں پہلے نازل کی گئیں، پھر مدینہ منورہ میں اسلامی حکومت کی تشکیل ہو گئی جس میں صوم و صلوۃ، جہاد و معاملات، انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت، مساجد و معابد کی ضرورت، احکام و عبادت، آپس کے تنازعات کا حل، اسلامی آداب و اخلاق، آخرت کی رغبت، دنیا سے بے رغبتی، معاشرات و اخلاقیات، منافقین اور نفاق کی مذمت اور ان کی چالبازیاں، تہذیب النفس، تدبیرِ منزل، سیاست مدینہ، حقوقِ زوجین، حقوقِ اقارب وغیرہ کی ضرورت تھی اس لیے مدینہ منور ہ میں مدنی سورتیں جن میں یہ تمام چیزیں مذکور ہیں نازل کی گئیں ۔
لیکن ترتیب میں مدنی سورتیں پہلے رکھی گئیں جو جامع ہیں اور ہر قسم کے احکام پر مشتمل ہیں ۔
ہاں بعض مکی سورتیں جو طویل اور جامع ہیں اور جن میں یہودیت و مسیحیت کا کامل رد موجود ہیں وہ بھی پہلے رکھی گئیں جیسے سورۃ اعراف و انعام کو پہلے رکھا گیا، ہاں سورہ فاتحہ پورے قرآن کریم کے لیے بمنزل متن ہے، لہذا اس کو پہلے رکھا گیا ۔
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.