نماز پنجگانہ کو اوقاتِ خمسہ پر تقسیم کرنے کی دلیل اور حکمت:
Question
نمازِ پنجگانہ کو اوقاتِ خمسہ پر کیوں تقسیم کیا گیا؟ اس کی مشروعیت کی کیا دلیل ہے؟ نیز اوقات کی حکمت کیا ہے؟
Answer
قرآن کریم کی بہت سی آیات سے اوقات کی مشروعیت کا پتا چلتا ہے، نیز حدیث امامت جبرئیل اور اس کے علاوہ احادیث بھی اوقات کی مشروعیت کی دلیل ہیں۔
ملاحظہ ہو اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿أقم الصلاة لدلوك الشمس إلى غسق الليل وقرآن الفجر إن قرآن الفجر كان مشهوداً﴾ (سورة بني إسرائيل: الآية: ۷۸)
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله تحریر فرماتے ہیں:
جمہور مفسرین نے اس آیتِ کریمہ کو پانچوں نمازوں کے لیے جامع حکم قرار دیا ہے
﴿لدلوك الشمس إلى غسق الليل﴾
میں چار نمازیں آ گئیں ظہر، عصر، مغرب اور عشاء
﴿وقرآن الفجر﴾
اس جگہ لفظ قرآن بول کر نماز مراد لی گئی ہے کیوں کہ قرآن نماز کا جزو اہم ہے۔ اکثر ائمہ تفسیر، ابن کثیر، قرطبی، مظہری وغیرہ نے یہی معنی لکھے ہیں اس لیے مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ
﴿لدلوك الشمس إلى غسق الليل﴾
کے الفاظ میں چار نمازوں کا بیان تھا یہ پانچویں نماز فجر کا بیان ہے۔ اس کو الگ کر کے بیان کرنے میں اس نماز کی خاص اہمیت اور فضیلت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ (معارف القرآن:
٥/٥۰۲)
قال الله تعالى: ﴿فسبحٰن الله حين تمسون وحين تصبحون وله الحمد في السمٰوت والأرض وعشياً وحين تظهرون﴾ (سورة الروم: الآية: ۱۷، ۱۸)
در منثور میں ہے:
أخرج عبد الرزاق والفريابي وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم والطبراني والحاكم وصححه عن أبي رزين قال: جاء نافع بن الأزرق إلى ابن عباس رضي الله عنه فقال: هل تجد الصلوات الخمس في القرآن؟ قال: نعم، فقرأ: ﴿فسبحٰن الله حين تمسون﴾ صلاة المغرب، ﴿وحين تصبحون﴾ صلاة الصبح، ﴿وعشياً﴾ صلاة العصر، ﴿وحين تظهرون﴾ صلاة الظهر، وقرأ: ﴿ومن بعد صلاة العشاء﴾ وأخرج ابن أبي شيبة وابن جرير وابن المنذر عن ابن عباس رضي الله عنه قال: جمعت هذه الآية مواقيت الصلاة ﴿فسبحٰن الله حين تمسون﴾ قال: المغرب والعشاء
(الدر المنثور: ٦/٤۸۸)
معارف القرآن میں ہے:
علماء نے کہا ہے کہ اس آیت میں پانچوں نمازوں کا مع ان کے اوقات کے ذکر آ گیا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس رضي الله عنه سے کسی نے دریافت کیا کہ کیا قرآن میں پانچ نمازوں کا ذکر صریح ہے؟ تو فرمایا: ہاں! اور استدلال میں یہی آیت پیش کر کے فرمایا اور حضرت حسن بصری رحمه الله نے فرمایا کہ
﴿حين تمسون﴾
میں مغرب اور عشاء دونوں داخل ہیں۔ (معارف القرآن:
٦/۷۲۹)
بخاری شریف میں ہے:
عن ابن شهاب أن عمر بن عبد العزيز رحمه الله أخر الصلاة يوماً فدخل عليه عروة بن الزبير فأخبره أن المغيرة بن شعبة رضي الله عنه أخر الصلاة يوماً وهو بالعراق فدخل عليه أبو مسعود الأنصاري رضي الله عنه فقال: ما هذا يا مغيرة؟ أليس قد علمت أن جبرئيل عليه السلام نزل فصلى فصلى رسول الله ﷺ ثم صلى فصلى رسول الله ﷺ
ثم قال: بهذا أمرت
الخ. (رواه البخاري: ۱/۷٥/٥۱٥، باب مواقيت الصلاة)
ترمذی شریف میں ہے:
أن النبي ﷺ قال: أمني جبرئيل عليه السلام عند البيت مرتين فصلى الظهر في الأولى منهما حين كان الفيء مثل الشراك ثم صلى العصر حين كان كل شيء مثل ظله ثم صلى المغرب حين وجبت الشمس وأفطر الصائم ثم صلى العشاء حين غاب الشفق ثم صلى الفجر حين برق الفجر وحرم الطعام على الصائم وصلى المرة الثانية الظهر
ثم التفت إلى جبرئيل عليه السلام فقال: يا محمد هذا وقت الأنبياء من قبلك والوقت فيما بين هذين الوقتين. (رواه الترمذي: ۱/۳۸، أبواب الصلاة. وأبو داود: ۱/٥٦)
درس ترمذی میں ہے:
یہ حدیث حدیثِ امامتِ جبرئیل کہلاتی ہے، اور باب مواقیت میں اصل ہے، اللہ تعالی اگر چاہتے تو یہ بھی ممکن تھا کہ مواقیت کی تعلیم زبانی طور سے دے دی جاتی، لیکن جبرئیل
عليه السلام
کے ذریعہ عملی تعلیم کو اختیار کیا گیا، کیوں کہ وہ اوقع فی الذہن ہوتی ہے۔ (درس ترمذی:
۱/۳۹۳)
۔
اوقات پر تقسیم کرنے کی حکمت:
فجر کے بعد بیدار ہونا موت کے بعد زندگی ملنے کے مترادف ہے، لہذا شکریہ کے طور پر نماز ادا کریں۔ زوال میں انسان کی زندگی کے زوال کی طرف اشارہ ہے لہذا موت کی تیاری میں لگنا چاہیے۔ عصر کا وقت گویا موت کے قریب ہونے کی علامت ہے کہ سورج کی طرح میں بھی جانے والا ہوں۔ مغرب میں سورج ڈوبنے میں زندگی کے سورج کے ڈوبنے کی طرف اشارہ ہے۔ تو عبادت میں مشغول ہونا چاہیے۔ اور عشاء میں سورج کے نشانات بھی مٹ جانے ہیں تو ایک دن آپ کے نشانات اور ذکر بھی ختم ہو جائے گا لہذا خود اپنے لیے تیاری کر لو اور عشاء پڑھ لو۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.