رمضان المبارک میں فجر کی نماز اول وقت میں پڑھنا:

2 min readFatwa Vol 2 #2Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱): اوقاتِ نماز کا بیان

Question

رمضان المبارک میں حنفی حضرات فجر کی نماز اول وقت میں پڑھتے ہیں حالانکہ فجر کی نماز اسفار میں مستحب ہے تو رمضان میں تعجیل کی کیا دلیل ہے؟

Answer

اس کی دلیل حدیث شریف میں موجود ہے۔ ملاحظہ ہو:
حضرت زید بن ثابت رضي الله عنه نے فرمایا کہ ہم نے رسولِ خدا
ﷺ
کے ساتھ سحری کھائی پھر صبح کی نماز کے لیے کھڑے ہو گئے، راوی نے دریافت کیا سحری اور نماز کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ فرمایا کہ جتنی دیر میں پچاس آیتیں پڑھ سکیں۔
ملاحظہ ہو ترمذی شریف میں ہے:

عن زيد بن ثابت رضي الله عنه قال تسحرنا مع رسول الله ﷺ ثم قمنا إلى الصلاة قال: قلت: كم كان قدر ذلك قال: قدر خمسين آية. (رواه الترمذي: ۱/۱٥۰، باب ما جاء في تأخير السحور)

حضرت شاہ صاحب کشمیری رحمه الله اس حدیث کی شرح کرتے ہوے فرماتے ہیں:

لقد تحير الحافظ في هذا الحديث فإن قدر خمسين آية يمكن في أقل من أربع دقائق ثم قال: إن هذا التبيين من شأن النبوة لا يمكن لغيره وهو حقيقة الأمر ودل الحديث على تغليسه عليه الصلاة والسلام في رمضان وهو عمل قطان ديوبند. (العرف الشذي: ۱/۱٥۱، باب ما جاء في تأخير السحور)

نیز علامہ بنوری رحمه الله نے بھی معارف السنن میں یہی تحریر فرمایا ہے۔ ملاحظہ ہو: (
معارف السنن: ٥/۳٦۲، سعيد)

ہدایہ کے بعض شارحین نے تحریر فرمایا ہے کہ اصل اول وقت میں نماز پڑھنا ہے اور فجر میں تاخیر تکثیر جماعت کی وجہ سے ہے اور رمضان المبارک میں تکثیرِ جماعت اول وقت میں ہے ورنہ لوگ سحری کھا کر سو جائیں گے اور نماز قضاء ہو جائے گی اسی وجہ سے رمضان المبارک میں اول وقت نماز فجر ادا کرنا افضل ہے۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله تحریر فرماتے ہیں:

نعم ذكر شراح الهداية وغيرهم في باب التيمم أن أداء الصلاة في أول الوقت أفضل إلا إذا تضمن التأخير فضيلة لا تحصل بدونه كتكثير الجماعة، ولهذا كان أولى للنساء أن يصلين في أول الوقت لأنهن لا يخرجن إلى الجماعة. كذا في مبسوط السرخسي وفخر الإسلام. (شامي: ۱/۳٦۷، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.