جمعہ کی نمازِ فجر میں سورۂ تبارک پڑھنے کا ثبوت:

3 min readFatwa Vol 9 #63Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک امام صاحب کبھی کبھی جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورۂ ملک پڑھتے ہیں، کیا یہ حدیث سے ثابت ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

Answer

جمعہ کی نمازِ فجر میں سورۂ ملک پڑھنا ایک روایت سے ثابت ہے، لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔ ملاحظہ ہو مصنف عبد الرزاق میں ہے:

عبد الرزاق عن ابن جريج قال: أخبرت عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: كان النبي ﷺ يقرأ في صلاة الجمعة بسورة الجمعة وسبح اسم ربك الأعلى وفي صلاة الصبح يوم الجمعة ألم تنزيل وتبارك الذي بيده الملك. (مصنف عبد الرزاق: ۳/۱۸۱، رقم: ۵۲۳۸، باب القراءة في يوم الجمعة، إدارة القرآن كراچي).

اس روایت میں ابن جریج کہتے ہیں:
أخبرت عن ابن مسعود
، اور محدثین کے یہاں ابن جریج جب اس طرح کے الفاظ سے روایت کرے تو اس کا اعتبار نہیں ہے۔
ملاحظہ ہو حافظ ابن حجر رحمه الله تہذیب التہذیب میں فرماتے ہیں:

وقال الأثرم عن أحمد: إذا قال ابن جريج قال فلان، وقال فلان وأخبرت، جاء بمناكير وإذا قال: أخبرني وسمعت فحسبك به. (تهذيب التهذيب: ٦/۳۵۹، ط: دار الفكر).
(وكذا في منهج الامام احمد في إعلال الأحاديث: ۲/۷۳۱، ط: وقف السلام، وموسوعة أقوال الأمام أحمد في الجرح والتعديل: ٤/۳۷۹، وسير أعلام النبلاء: ٦/۳۲۸).

میزان الاعتدال میں حافظ ذہبی رحمه الله فرماتے ہیں:

قال عبد الله بن أحمد بن حنبل رحمه الله: قال أبي: بعض هذه الأحاديث التي كان يرسلها ابن جريج أحاديث موضوعة كان ابن جريج لا يبالي من أين يأخذها، يعني قوله: أخبرت، وحدثت عن فلان. (ميزان الاعتدال: ۳/۳۷۳، رقم: ۵۲۷۷).

دوسری وجہِ ضعف یہ ہے کہ ابن جریج اور عبد اللہ بن مسعود رضی الله عنه کے درمیان طویل فاصلہ ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنه کی وفات ۳۲ یا ۳۳ ہجری میں ہوئی (سیر اعلام النبلاء: ۱/٤۹۹) اور ابن جریج رحمه الله ۸۰ ہجری میں پیدا ہوئے۔ (الطبقات الکبری لابن سعد: ۵/٤۹۲) معلوم ہوا سند میں انقطاع ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ان دو وجوہات کی بنا پر یہ روایت ضعیف ہے اور اس روایت سے استدلال مشکل ہے۔ لیکن چونکہ اس کا تعلق فضائل سے ہے بنا بریں کبھی کبھی اس پر عمل کرنا درست ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.