انجیکشن کے بارے میں مزید تحقیق:
Question
کیا فرماتے ہیں علماء کہ انجیکشن رگ میں ہو یا گوشت میں طاقت کے لیے ہو یا بیماری کے لیے مفسدِ صوم ہے یا نہیں؟
Answer
مفسد صوم وہ چیز ہے جو منافذ اصلیہ منہ، ناک، دبر، قبل، وغیرہ کے ذریعہ جوفِ دماغ یا جوفِ بطن میں پہونچ جائے یا عارضی منفذ جیسے پیٹ کے گہرے زخم کے اندر سیال دوا ڈال دے، ہاں جو چیز مسامات یا رگوں کے ذریعہ پہونچ جائے وہ مفسد نہیں ۔
ملاحظہ فرمائیں فتح المعین میں ہے:
لأن المفطر إنما هو الداخل من المنافذ ولهذا اتفقوا على أن من اغتسل فوجد برد الماء في باطنه لا يفطر. (فتح المعين: ۱/٤۳۱).
مبسوطِ سرخسی میں ہے:
وإن وصل عين الكحل إلى باطنه فذلك من قبل المسام، لا من قبل المسالك، إذ ليس بين العين إلى الحلق مسلك فهو نظير الصائم يشرع في الماء فيجد برودة الماء في كبده. (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۳/٦۷).
ہدایہ میں ہے:
والداخل من المسام لا ينافي كما لو اغتسل بالماء البارد. (الهداية: ۱/۲۱۷، باب ما يوجب القضاء والكفارة).
وفي البدائع: تحت مسألة الاكتحال: وما يوجد من طعمه فذاك أثره لا عينه. (بدائع الصنائع: ۲/۹۳، سعيد).
نیز جب دوا رگ میں پہونچی تو خون کے ساتھ ملنے کی وجہ سے خون غالب ہوا اور دوا کی حقیقت خون میں بدل گئی، اور جب بطن میں پہونچی تو وہ خون ہی تھا، بیرونی چیز بدل گئی، جیسے لعاب خون پر غالب ہو اور اس کو صائم نگل لے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔
شامی میں ہے:
فإن غلب الدم أو تساويا فسد وإلا لا، إلا إذا وجد طعمه بزازيه واستحسنه المصنف وهو ما عليه الأكثر. (شامي: ۲/۳۹٦، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.