دو شنبہ اور پنج شنبہ کے روزے کی فضیلت و حکم:
Question
پیر اور جمعرات کے روزے کی کیا فضیلت ہے، اور اس کا کیا حکم ہے؟
Answer
پیر اور جمعرات کے روزے کی فضیلت حدیث سے ثابت ہے، لہذا مستحب ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: پیر اور جمعرات کے دن انسانوں کے اعمال خداوند قدوس کے حضور پیش کیے جاتے ہیں، تو میں پسند
كرتا ه
وں کہ روزہ کی حالت میں میرے اعمال پیش کیے جائیں ۔
ملاحظہ فرمائیں ترمذی شریف میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه أن رسول الله ﷺ قال: تعرض الأعمال يوم الإثنين والخميس فأحب أن يعرض عملي وأنا صائم. قال أبو عيسى: حديث أبي هريرة رضي الله تعالى عنه في هذا الباب حديث حسن غريب. (ترمذي شريف: ۱/۱۵۷، باب ما جاء في صوم يوم الاثنين والخميس).
وأيضاً روى ابن ماجة عن أبي هريرة ص: ۱۲٤، أبو داود عن أسامة بن زيد: ۱/۳۳۱، والطبراني عن جابر رضي الله عنه. (الترغيب والترهيب: ۲/۱۲۵).
دوسری روایت میں ہے کہ پیر کے دن آپ علیہ الصلاۃ و السلام کی ولادت با سعادت ہوئی ۔
ملاحظہ ہو ابو داود شریف میں ہے:
عن أبي قتادة رضي الله تعالى عنه قال: يا رسول الله أرأيت صوم الإثنين ويوم الخميس قال: فيه ولدت وفيه أنزل على القرآن. (رواه أبو داود: ۱/۳۲۹. وكذا في مسند احمد: ۵/۲۹٦/۲۲۵۹۰).
صحیح مسلم شریف میں ہے:
قال: سئل عن صوم الإثنين قال: "ذاك يوم ولدت فيه ويوم بعثت أو أنزل على فيه". (رواه مسلم: ۳/۱٦۷/۲۸۰٤. وكذا في مسند احمد: ۵/۲۹٤/۲۲۵۹٤).
خلاصہ یہ ہے کہ پیر اور جمعرات کا روزہ مستحب ہے، اس لیے کہ آپ ﷺ کا معمول تھا اور بعض صحابہ سے بھی یہ عمل ثابت ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.