امام کے ساتھ فوری شرکت کی فضیلت:
Question
میں اور میرا ساتھی نماز میں ایسے وقت پہنچ گئے کہ امام سجدہ میں تھا، میں فی الفور تکبیر کہہ کر سجدہ میں شریک ہو گیا، اور میرے ساتھی نے دوسری رکعت کا انتظار کیا اور اس میں شریک ہوا، کیا میرا فعل زیادہ صحیح ہے یا میرے ساتھی کا؟ اگر کوئی فی الفور سجدہ میں شریک ہو جائے تو کیا اس کے لیے کوئی خاص فضیلت ہے یا نہیں؟
Answer
حدیث شریف میں ہے کہ امام کو جس حالت میں پاؤ شریک ہو جاؤ ۔ کیوں کہ معلوم نہیں اللہ تعالی کو نماز کا کون سا حصہ زیادہ پسند آ جائے جیسے پلیٹ صاف کرنے کا حکم ہے کہ معلوم نہیں کون سے لقمہ میں برکت ہے لہٰذا جو شخص فوراً سجدہ میں شریک ہوا اس کا عمل زیادہ صحیح ہے اگر چہ مدرکِ رکعت نہ ہوا لیکن محرزِ اجر و ثواب ہوا ۔
ملاحظہ فرمائیں ترمذی شریف میں ہے:
عن علي رضي الله عنه ومعاذ بن جبل رضي الله عنه قالا: قال النبي ﷺ: إذا أتى أحدكم الصلاة والإمام على حال فليصنع كما يصنع الإمام. قال أبو عيسى: هذا حديث غريب لا نعلم أحداً أسنده إلا ما روي عن هذا الوجه، والعمل على هذا عند أهل العلم، قالوا: إذا جاء الرجل والإمام ساجد فليسجد ولا تجزئه تلك الركعة إذا فاته الركوع مع الإمام وذكر عن بعضهم فقال: لعله لا يرفع رأسه في تلك السجدة حتى يغفر له. (سنن الترمذي: ۲/ ۱۳۷/۵۹۱).
ابو داود شریف میں روایت ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إذا جئتم إلى الصلاة ونحن سجود فاسجدوا، ولا تعدوها شيئاً ومن أدرك الركعة، فقد أدرك الصلاة. (سنن أبي داود: ۱/۲۸۸).
وفي سعيد بن منصور من رواية عبد العزيز بن رفيع عن أناس من أهل المدينة أن النبي ﷺ قال: من وجدني قائماً أو راكعاً أو ساجداً فليكن معي على الحالة التي أنا عليها. (عمدة القاري، باب إذا ركع دون الصف: ٤/۵۰۹، دار الحديث، ملتان).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.